ایل جی کا سانبہ ریگل گاؤںمیں ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد
ڈئ آئی پی آر
جموں؍۶مئی
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز کہا ’’ہمارے سرحدی گاؤں جرات اور ثابت قدمی کی ایک عظیم روایت کے وارث ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم نے بیانیہ بدل دیا ہے۔ یہ اب بھارت کے آخری گاؤں نہیں رہے بلکہ ہمارے ‘پہلے گاؤں’ ہیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر آج ضلع سانبہ کے سرحدی گاؤں ریگل کے دورے کے دوران ایک عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے کئی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا۔
ان منصوبوں میں گورنمنٹ پرائمری اسکول ریگل میں ڈیجیٹل لائبریری کا قیام، ریگل میں کمیونٹی ہال کم تفریحی مرکز کی تعمیر، ڈرینیج چینل کے ساتھ امرت سروور کی ترقی، تین اوپن جمز کی تنصیب اور سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب شامل ہیں۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انتظامیہ سرحدی بستیوں کو نظراندازی کے دائرے سے نکال کر قومی ترقی کی صفِ اول میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔
سنہا نے کہا’’ریگل جیسے سرحدی گاؤں بھارت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ہماری شاندار تاریخ انہی سرحدی دیہات کے دشوار گزار راستوں میں تشکیل پائی ہے۔ہم ہر سرحدی گاؤں کے خاندان کے وقار کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ جن لوگوں نے سب سے زیادہ نظراندازی جھیلی، انہیں اب جموں و کشمیر کی ترقی کے نئے دور میں سب سے زیادہ ترجیح دی جائے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت ہند ’وائبرنٹ ولیجز پروگرام‘ کے تحت ایک جامع حکمت عملی نافذ کر رہی ہے، جس کا مقصد سرحدی آبادی کو روزگار، بنیادی ڈھانچے اور رابطہ کاری پر خصوصی توجہ کے ساتھ قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔
سنہا نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد موجودہ اسکیموں کے تحت چار اہم شعبوں میں تمام دیہات کو مکمل سہولیات فراہم کرنا بھی ہے، جن میں ہر موسم میں سڑک رابطہ، ٹیلی کام رابطہ، ٹیلی ویژن رابطہ اور بجلی کی فراہمی شامل ہیں۔
ایل جی نے کہا’’یہ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ ہر شہری کی خواہشات پوری ہوں اور سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کیا جائے‘‘۔
مزید برآں، ‘پورے حکومتی نقطۂ نظر’ کو اپناتے ہوئے ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وائبرنٹ ولیجز پروگرام کے تحت مقرر تمام اہداف حاصل کیے جائیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے حکام کو ہدایت دی کہ سرحدی دیہات کے ہر گھر تک بجلی، موبائل رابطہ اور معاشی خودمختاری کی رسائی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا’’ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ۲۰۳۰تک سامبا کے سرحدی دیہات میں ایک بھی خاندان خطِ غربت سے نیچے نہ رہے‘‘۔
رام گڑھ کے رکن اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے مطالبات کے جواب میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انتظامیہ پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر سے بے گھر افراد اور مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کو اراضی کی ملکیت کے حقوق فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاہپور کنڈی ڈیم کی تکمیل سے خطے کی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ریگل کو ٹی بی سے پاک گاؤں بننے پر سراہا اور صاف پینے کے پانی اور منشیات کے خلاف اجتماعی جدوجہد کے حوالے سے مسلسل بیداری پر زور دیا۔انہوں نے ایس پی اوز کو تقرری نامے اور گاؤں کے نوجوانوں و مختلف مستفیدین کو ایچ اے ڈی پی، مشن یووا اور دیگر اسکیموں کے تحت منظوری نامے بھی تقسیم کیے۔
ریگل بارڈر آؤٹ پوسٹ (بی او پی) کے دورے کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے جوانوں سے ملاقات کی، سرحدوں کے تحفظ میں ان کے غیر متزلزل عزم کو سراہا اور’آپریشن سندور‘ میں ان کے مثالی کردار کی تعریف کی۔
اس موقع پر رام گڑھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر دیویندر کمار منیال، ایڈیشنل چیف سیکریٹری جل شکتی محکمہ شالین کبرا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اشونی کمار، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پبلک ورکس (آر اینڈ بی) انیل کمار سنگھ، آئی جی پی جموں بھیم سین توتی، پرنسپل سیکریٹری ثقافت برج موہن شرما، کمشنر سیکریٹری پلاننگ و اطلاعات محترمہ آر ایلس واز، ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار، ڈپٹی کمشنر سامبا محترمہ آیوشی سودن، ایس ایس پی سامبا انوج کمار، فوج، پولیس اور سول انتظامیہ کے سینئر افسران اور بڑی تعداد میں عوام موجود تھے۔










