’ہم نے ایس۴۰۰نظام کو بہت جارحانہ انداز میں استعمال کیا‘انہیں چھپایا بھی اور دشمن کو دھوکہ دینے کیلئے ان کے جعلی ماڈلز بھی استعمال کئے‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۶مئی
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ’آپریشن سندور‘ نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف بھارت کے ردعمل کی نئی ’سرخ لکیریں‘ متعین کی ہیں بلکہ اس نے کئی اہم عسکری اسباق بھی فراہم کیے ہیں، جن میں فضائی طاقت کا مشترکہ اور مربوط استعمال، ڈرون ٹیکنالوجی کو مزید مضبوط بنانا اور ایک مستحکم مواصلاتی نظام کی تشکیل شامل ہے۔
۶ ؍اور۷مئی کی درمیانی شب شروع کیے گئے اس فیصلہ کن فوجی آپریشن کو یاد کرتے ہوئے کئی دفاعی اور اسٹریٹجک امور کے ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس فوجی کارروائی نے یہ بھی واضح کر دیا کہ مستقبل کی جنگیں صرف فضائی حدود تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ سائبر اسپیس، معلوماتی اور ذہنی محاذوں پر بھی لڑی جائیں گی۔
تقریباً چار روز تک جاری رہنے والے اس تنازعے کے دوران بھارتی فوج کو نہ صرف مغربی سرحد پار سے لیہہ سے سر کریک تک مختلف لہروں میں آنے والے دشمن ڈرونز کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اسے ایک شدید غلط معلوماتی مہم کا بھی مقابلہ کرنا پڑا، جس کا مقصد فوج اور عوام کے حوصلے پست کرنا تھا۔
ریٹائرڈ ایئر کموڈور گورو ایم ترپاٹھی، جنہوں نے اس آپریشن میں کردار ادا کیا تھا، نے تنازعات کے نتائج طے کرنے میں فضائی طاقت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے زور دیا کہ مستقبل میں تینوں افواج کی’مشترکہ فضائی طاقت‘کو اس انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے کہ وہ کسی بھی ’قابل دشمن‘ کے خلاف مربوط انداز میں کام کر سکے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کو بتایا’’آپریشن سندور کے دوران ہم نے پاکستان کی جانب سے بڑی تعداد میں ڈرونز کا استعمال دیکھا۔ ان میں سے اکثر بے ضرر تھے، جن کا مقصد صرف بھارتی ہتھیاروں اور گولہ بارود کو مصروف رکھنا تھا تاکہ بعد میں حملہ آور ڈرونز داخل ہو سکیں‘‘۔
ترپاٹھی کاکہنا تھا’’لیکن دشمن ہوشیار ہے۔ اگلی بار وہ ایسے مضبوط ڈرونز بھیج سکتے ہیں جنہیں جام کرنا زیادہ مشکل ہوگا، جن کی نیویگیشن زیادہ بہتر ہوگی، شاید انہیں جی پی ایس کی ضرورت بھی نہ ہو اور ان میں الیکٹرو آپٹیکل ہومنگ ڈیوائسز بھی ہوں گی۔ اور ممکنہ طور پر وہ جھنڈ کی شکل میں مشترکہ کارروائی کریں گے‘‘۔
سابق فضائیہ افسر، جنہوں نے گزشتہ اگست میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی، مختلف قسم کے لڑاکا طیارے اڑا چکے ہیں، ہاک ایم کے۱۳۲؍اسکواڈرن کی قیادت کر چکے ہیں اور ایک فائٹر بیس کے چیف آپریشنز آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔
ترپاٹھی نے کہا کہ بھارتی فضائیہ میں انسدادِ ڈرون صلاحیتوں پر پہلے ہی کچھ سرمایہ کاری کی جا چکی ہے،’’لیکن انسدادِ ڈرون صلاحیتوں کو وسیع پیمانے پر پھیلانا ہوگا اور تمام اہم مقامات کو اس کے دائرے میں لانا ہوگا‘‘۔
سابق فضائی افسر نے بھارتی فضائی حدود کو محفوظ بنانے اور دشمن کو مؤثر نقصان پہنچانے میں ایس۴۰۰، آکاش ہتھیار نظام، براہموس اور دیگر میزائلوں کی تعریف کی، جنہوں نے بھارتی لڑاکا طیاروں کو بھی مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔
ترپاٹھی نے کہا’’ہم نے ایس۴۰۰نظام کو بہت جارحانہ انداز میں استعمال کیا؛ ہم انہیں مسلسل مختلف مقامات پر منتقل کرتے رہے۔ ہم نے انہیں چھپایا بھی اور دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے ان کے جعلی ماڈلز بھی استعمال کیے۔ عسکری اصطلاح میں اسے ‘کیمافلاج، کنسیلمنٹ اینڈ ڈسیپشن‘‘۔
گزشتہ سال آپریشن کا حصہ رہنے کے اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’شاید اس آپریشن میں پہلی بار طویل فاصلے تک مار کرنے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کا جارحانہ استعمال کیا گیا، اور میرا خیال ہے کہ یہ آئندہ بھارتی فضائیہ کے آپریشنل تصور کا حصہ بن جائے گا‘‘۔
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آپریشن سے حاصل ہونے والا ایک اور سبق ’فضائی اثاثوں کے نیٹ ورکنگ عمل کو تیز اور مکمل کرنا‘ ہے، جس سے بھارتی فضائیہ رہنمائی حاصل کرے گی۔
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل دشینت سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندور نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کی ’سرخ لکیریں مزید آگے بڑھ چکی ہیں‘ اور نئی دہلی’دشمن کی جوہری دھمکیوں کو چیلنج کرنے‘ کے لیے تیار ہے۔
سنگھ نے پی ٹی آئی سے گفتگو میں کہا’’آپریشن سندور کا ایک بڑا عسکری سبق یہ ہے کہ ہم اسٹریٹجک تحمل سے نکل کر اسٹریٹجک پیش قدمی کی طرف بڑھ چکے ہیں۔ اگر مستقبل میں ایسا کچھ دوبارہ ہوتا ہے تو ہمیں بہت تیزی سے جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا‘‘۔
دہلی میں قائم تھنک ٹینک ’سینٹر فار لینڈ وارفیئر اسٹڈیز‘کے ڈائریکٹر جنرل رہنے والے ریٹائرڈ فوجی افسر نے کہا کہ ’’جواب دینے کی رفتار، گہرائی اور سطح، ان تمام سرخ لکیروں میں اضافہ ہوا ہے‘‘ اور اس کے لیے فوجی تیاری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں کئی ساختی اسباق اور فوجی پالیسیاں سامنے آئی ہیں جبکہ اس تنازعے سے لاجسٹک نوعیت کے کئی اسباق بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
آپریشن سندور پہلگام دہشت گرد حملے کا بدلہ لینے کے لیے شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت بھارتی افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردی کے کئی ٹھکانوں پر درست نشانے والے حملے کیے تھے۔اس فیصلہ کن فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد بھارتی فوج نے۷ مئی کی رات۱:۵۱ منٹ پر ایکس پر پوسٹ کیا تھا’’پہلگام دہشت گرد حملہ انصاف کر دیا گیا۔ جئے ہند!‘‘بعد میں پاکستان نے بھی بھارت کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں اور اس کے بعد بھارت کی تمام جوابی فوجی کارروائیاں بھی ’آپریشن سندور‘کے تحت انجام دی گئیں۔
دونوں جوہری طاقت رکھنے والے پڑوسی ممالک کے درمیان تقریباً۸۸ گھنٹے جاری رہنے والا یہ فوجی تنازعہ۱۰ مئی کی شام ایک باہمی مفاہمت کے بعد ختم ہوا۔
پہلگام حملے کی پہلی برسی پر فوج نے ایکس پر کہا کہ بھارت کے خلاف کسی بھی کارروائی کا ’جواب یقینی‘ ہے، اور ایک ڈیجیٹل پوسٹر بھی جاری کیا جس میں تین مسلح فوجیوں کی تصویر کے ساتھ سرخ دائرہ اور ’آپریشن سندور جاری ہے‘کا عنوان درج تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل سنگھ نے زور دے کر کہا کہ مستقبل کی کارروائیاں’خلاء سے لے کر زیرِ سمندر‘ تک کئی محاذوں پر ہوں گی، جہاں مواصلات کا ایک مربوط جال بیک وقت کام کرے گا، نہ کہ صرف ’زنجیری مواصلات‘ کے انداز میں۔
اسی لیے فوجی مواصلاتی نظام کو الیکٹرانک جنگ، سائبر جنگ اور خلائی مداخلت کے مقابلے کے لیے مضبوط اور لچکدار بنانا ہوگا، جبکہ انہوں نے دفاعی شعبے میں مقامی پیداوار کے عمل کو تیز کرنے کی بھی وکالت کی۔
کارنیگی انڈیا کے سکیورٹی اسٹڈیز پروگرام کے فیلو دنکر پری نے کہا کہ ’آپریشن سندور بھارت اور برصغیر کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا کیونکہ اس نے فوجی حد بندی اور بھارت و پاکستان کے درمیان طاقت کے عدم توازن کو واضح کیا‘‘۔
انہوں نے کہا’’تاہم، اس سے بھارت کو آئندہ تنازعے میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے کئی اسباق بھی ملے ہیں۔ پاکستان، اور اس کے ساتھ چین، اب جانتے ہیں کہ بھارتی فوج کیا صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی کمزوریاں کیا ہیں۔ اگلا تنازعہ یا ‘آپریشن سندور۲ء۰’ گزشتہ جنگ جیسا نہیں ہوگا۔‘‘
آپریشن کے چند دن بعد وزارت دفاع نے کئی ہنگامی دفاعی خریداریوں کی منظوری دی، جن میں درست نشانے والے ہتھیار، ایس۴۰۰میزائل ذخائر کی تکمیل، متعدد ڈرونز، انسدادِ ڈرون نظام، لوئٹرنگ میونیشنز اور جیولین اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل شامل ہیں، جو اب مرحلہ وار شامل کیے جا رہے ہیں۔
دنکر پری نے کہا کہ یہ اقدامات فوری خلا کو پُر کریں گے جبکہ حالیہ منظوری پانے والے بڑے دفاعی منصوبے، جیسے۱۱۴ رافیل طیاروں کا معاہدہ، اضافی ایس۴۰۰نظام، نئی فضائی دفاعی توپیں اور دیگر جنگی طیارے آئندہ چند برسوں میں شکل اختیار کریں گے۔










