انہیں پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا ہی نہیں جانا چاہئے تھا :وزیر اعلیٰ
جموں؍۲۷ ؍اپریل
جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے معراج ملک کی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس قانون ساز کو بڑی راحت فراہم کی ہے، جو گزشتہ سال ستمبر سے احتیاطی حراست میں تھے۔
عدالت نے جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ان کی حراست کو چیلنج کرنے والی ہیبیس کارپس درخواست کی سماعت کے بعد حراستی حکم کو منسوخ کر دیا۔
ملک، جو ڈوڈہ اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں اور عام آدمی پارٹی کی جموں و کشمیر یونٹ کے سربراہ ہیں، کو ۸ستمبر۲۰۲۵کو عوامی نظم کے خلاف سرگرمیوں کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں ضلع کٹھوعہ جیل میں رکھا گیا تھا۔
درخواست کی سماعت متعدد تاریخوں پر ہوئی تھی، اور عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد۲۳ فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
اب جبکہ حراستی حکم کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، ذرائع کے مطابق مہراج ملک کی رہائی قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد متوقع ہے، بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہوں۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے معراج ملک کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کبھی بھی نظر بند نہیں کیا جانا چاہیے تھا، اور اس اقدام کو قانون کا’سنگین غلط استعمال‘ قرار دیا۔
وزیراعلیٰ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا’’انہیں کبھی بھی پی ایس اے کے تحت نظر بند نہیں کیا جانا چاہیے تھا، دراصل انہیں سرے سے گرفتار ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کی نظر بندی اس قانون کا صریح غلط استعمال تھی اور مکمل طور پر غیر منصفانہ تھی‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس نظر بندی کے ذمہ دار حکام عدالت کے فیصلے سے سبق حاصل کریں گے اور ایسے قوانین کے استعمال پر غور کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا’’مجھے امید ہے کہ اس نظر بندی کے ذمہ دار افراد معزز ہائی کورٹ کے فیصلے سے سبق سیکھیں گے اور جموں و کشمیر میں ان قوانین کے غلط استعمال پر سنجیدگی سے غور کریں گے‘‘۔
جسٹس محمد یوسف وانی نے عدالت میں اعلان کیا کہ ملک کے خلاف جاری احتیاطی نظر بندی کا حکم منسوخ کیا جاتا ہے، حکام کے مطابق۔










