یہ یقینی طور پر سیاحت کے شعبے کو تقویت دے گا‘ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اب تک ٹرین کی گنجائش محدود تھی:وزیر اعلیٰ
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۷؍اپریل
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ جموں ٹرمینل سے سرینگر تک نئی ٹرین سروس، جو جمعرات سے شروع ہونے جا رہی ہے، سیاحت کے شعبے کو نمایاں فروغ دے گی۔
حکام کے مطابق، ریل رابطے میں ایک بڑی پیش رفت کے تحت خصوصی طور پر تیار کردہ وندے بھارت ایکسپریس۳۰؍اپریل سے جموں اور سرینگر کے درمیان چلائی جائے گی، جو دونوں دارالحکومتوں کو براہ راست جوڑے گی۔
یہ پریمیم ٹرین سروس گزشتہ نو ماہ سے شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا اور سرینگر کے درمیان چل رہی تھی، جسے اب جموں توی تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹرین کی بڑھتی ہوئی گنجائش سے زیادہ مسافر سفر کر سکیں گے، جس سے رابطہ بہتر ہوگا اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ یقینی طور پر سیاحت کے شعبے کو تقویت دے گا۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اب تک ٹرین کی گنجائش محدود تھی۔ صرف آٹھ کوچز پر مشتمل ٹرین کٹرا سے سرینگر کے درمیان چل رہی تھی، لیکن اب یہ بیس کوچز پر مشتمل ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ مسافر سفر کر سکیں گے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ایسی خدمات کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے اور حکومت چاہتی ہے کہ ٹرینوں کی تعداد اور گنجائش دونوں میں مزید اضافہ کیا جائے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اس سروس سے متعلق کسی بھی اضافی مسئلے یا تجاویز کو۳۰؍ اپریل کو منعقد ہونے والی سرکاری تقریب میں متعلقہ وزیر کی موجودگی میں اٹھایا جائے گا۔
اس موقع پر جموں و کشمیر میں اسٹارٹ اپ نظام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ خطہ اُن ریاستوں سے پیچھے ہے جہاں یہ اقدامات پہلے شروع کیے گئے، تاہم انہوں نے کہا کہ ’’ہم ان کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں اور ان کی غلطیوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ۲۰۲۴میں اعلان کردہ اسٹارٹ اپ پالیسی نے ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے اور اب بجٹ میں فنڈنگ اور ترقی کے لیے گنجائش بھی فراہم کی گئی ہے۔
وزیرا علیٰ نے مزید کہا’’ہم یہاں اسٹارٹ اپس کے لیے ایک مضبوط نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘ اور بتایا کہ حالیہ دورہ جی سی ای ٹی جموں کے دوران انکیوبیشن سینٹر کے قیام کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔انہوں نے یقین دلایا کہ اس سال وہاں انکیوبیشن سینٹر کے قیام پر کام کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ نے پیر کے روز جموں میں گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں اسکول آف آرکیٹیکچر عمارت کا افتتاح بھی کیا، جو تکنیکی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اس سے پہلے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز واشنگٹن میں ایک مقام پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی، جہاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے، ساتھ ہی اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ وہ محفوظ رہے۔
عمرعبداللہ نے مغربی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت جاری رہنی چاہیے، چاہے متبادل ذرائع کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔
عمر عبداللہ نے یہاں ایک تقریب کے موقع پر سوال کے جواب میں کہا’’خدا کا شکر ہے کہ وہ محفوظ رہے، اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ان کے ساتھ کچھ بھی ہو‘‘۔
اتوار کے روز واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیے کے دوران ایک شخص نے ہوٹل کے بال روم کے باہر متعدد ہتھیاروں سے فائرنگ کی، جس کے بعد صدر ٹرمپ، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا گیا۔
سیاست کو ’بہت گندی چیز‘قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اختلافات کو زبانی اور جمہوری طریقے سے ظاہر کیا جانا چاہیے، نہ کہ تشدد کے ذریعے۔ ’’کسی کو نقصان پہنچانا کہیں بھی جائز نہیں۔ اس طرح کے جان لیوا حملے ناقابل قبول ہیں، اور میں امید کرتا ہوں کہ ایسے واقعات کسی بھی سیاسی رہنما کے ساتھ کبھی پیش نہ آئیں‘‘۔
جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس خطے نے دہائیوں تک تشدد اور سیاسی رہنماؤں پر حملوں کا سامنا کیا ہے۔ ان کاکہنا تھا’’اس بات کو ہم سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ گزشتہ۳۰سے۳۵ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں—چاہے وہ بی جے پی ہو، نیشنل کانفرنس، کانگریس یا سی پی آئی (ایم)—سے تعلق رکھنے والے کئی کارکنان اور رہنما گولیوں اور دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا‘‘۔
بین الاقوامی پیش رفت کے حوالے سے، ثالثی کے بعد پاکستان میں ایران سے متعلق طے شدہ امریکی سطح کے مذاکرات کی منسوخی پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ بات چیت جاری رہنی چاہیے، چاہے متبادل ذرائع کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ ’’اگر فون پر بات چیت ہوتی ہے تو بھی ٹھیک ہے، لیکن یہ ہونی چاہیے‘‘۔
استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’ہم چاہتے ہیں کہ امن بحال ہو اور جاری کشیدگی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ ایران کو پُرامن زندگی گزارنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا، اب توجہ پائیدار امن کے قیام پر ہونی چاہیے۔‘‘










