‘سرینگر؍۲۰؍اپریل
دنیا بھر سے عازمین حج کے اولین گروپ مکہ پہنچ گئے جہاں انہوں نے مسجد الحرام کا رخ کیا جس کے بعد اس سال حج کی تیاریوں کا آغاز ہو گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق حجاج کی آمد سکون اور روحانیت سے بھرپور ماحول میں ہو رہی ہے جہاں سعودی حکومت کی جانب سے انہیں خدمات کا جامع نظام فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ حجاج کو سفر میں سہولیات ملیں اور وہ اپنی عبادات آسانی اور سکون سے کر سکیں۔
اس کے مطابق فضائی راستوں سے مختلف ممالک سے متعدد پروازیں سعودی عرب پہنچی ہیں، جن میں پاکستان، ترکی، افغانستان، ملائیشیا، بھارت، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ شامل ہیں، اب تک تقریباً ایک سوپروازیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
متعلقہ اداروں نے عازمین حج کی خدمات کے لیے انسانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی وسائل کو متحرک کر دیا ہے جس میں ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی مضبوطی، رہائشی سروس میں بہتری، صحت کی سہولیات میں جدت اور سخت سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو بہتر کرنا شامل ہے تاکہ قیام کے دوران محفوظ اور منظم ماحول قائم کیا جا سکے۔
یہ کوششیں سعودی وژن۲۰۳۰ کے ساتھ ہم آہنگ ہیں جن کا مقصد ہے کہ حجاج کی بہترین انفراسٹرکچر اور سروس کوالٹی کے ذریعے خدمت کی جائے تاکہ انہیں ایک بہترین روحانی تجربہ فراہم ہو اور حرمین شریفین اور وہاں آنے والے زائرین کی خدمت کے لیے مملکت کے کردار کو مزید تقویت ملے۔
حج عازمین کا امیگریشن ہال میں روایتی مہمان نوازی کے ساتھ استقبال کیا گیا اور انہیں کھجور اور آبِ زمزم پیش کیا گیا۔بعد ازاں عازمین کو خصوصی بسوں کے ذریعے ان کی رہائش گاہوں تک منتقل کیا گیا۔
سعودی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے عازمین کی آمد کے لیے چھ بڑے ہوائی اڈوں کو مجاز قرار دیا ہے۔
سال۲۰۲۶ میں بھارت سے مجموعی طور پرایک لاکھ ۷۵ہزار۲۵ عازمین حج کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوں گے، جن کی پروازیں مدینہ اور جدہ دونوں شہروں میں پہنچیں گی۔
بھارت کی وزارتِ اقلیتی امور نے ڈیجیٹل سہولیات کو مزید بہتر بناتے ہوئے حج سوِدھا ایپ متعارف کرائی ہے اور عازمین کی رہنمائی و ٹریکنگ کے لیے اسمارٹ رِسٹ بینڈز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
وزارتِ حج و عمرہ نے تمام عازمین کے امور کے دفاتر اور حج سروس فراہم کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ عازمین کو اس بات سے آگاہ کریں کہ رواں سال حج کی ادائیگی کے لیے سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہے اور مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات میں داخلے کے لیے منظور شدہ طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جائے۔
یہ اقدامات عازمین کی حفاظت، معیاری خدمات کی فراہمی اور انہیں محفوظ و منظم ماحول میں مناسک حج ادا کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
اس بیچ کشمیر عازمینِ حج اپنی پہلی منزل کے طور پر مدینہ منورہ کا رخ کر رہے ہیں، جہاں بہت سے عازمین تقریباً ۱۰دن قیام کے بعد مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔
(ویب ڈیسک )










