نئی دہلی، 18 اپریل (یو این آئی) خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے معاملے پر دہلی پردیش بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مہیلا مورچہ نے ہفتہ کے روز لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا اور اس دوران مسٹر گاندھی کا پتلا نذرِ آتش کرنے والی کئی خاتون رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔
احتجاج کرنے والی بی جے پی مہیلا مورچہ کی کارکنوں نے ہاتھوں میں تختیاں لے کر مسٹر گاندھی اور کانگریس کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس احتجاج میں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، مرکزی وزیر اناپورنا دیوی، بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ ہیما مالنی، رکن پارلیمنٹ کمل جیت سہراوت، بانسری سوراج، دہلی بی جے پی کے صدر وریندر سچدیوا سمیت کئی بڑے رہنما شامل ہوئے۔ جب احتجاج کرنے والی خواتین سنہری مسجد گول چکر کے پاس مسٹر گاندھی کا پتلا نذرِ آتش کر رہی تھیں، تو پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا اور کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ پولیس مسٹر سچدیوا، محترمہ سہراوت، محترمہ سوراج اور محترمہ یوگیتا سمیت کئی بی جے پی رہنماؤں کو حراست میں لے کر پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے لے گئی۔
اس دوران محترمہ ہیما مالنی نے کہا، "یہاں دہلی کی تمام ناری شکتی جمع ہوئی ہے اور اس بات پر احتجاج کر رہی ہے کہ کل لوک سبھا میں اپوزیشن کے لوگوں نے خواتین کے ریزرویشن ترمیمی بل کو پاسنہیں ہونے دیا۔ تمام خواتین اس بات سے بے حد ناراض ہیں، اس لیے ہم احتجاج کر رہے ہیں۔” محترمہ گپتا نے کانگریس اور سماج وادی پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "خواتین کی ہار میں ایسی کون سی جیت کانگریسی اور سماج وادی رہنماؤں کو نظر آگئی جس کا وہ جشن منا رہے تھے؟”
وہیں، محترمہ اناپورنا دیوی نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی نیت ہی اس بل کو پاس نہ ہونے دینے کی تھی۔ انہوں نے لوک سبھا میں جمعہ کے واقعات کو شرمناک اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی خواتین کے حوصلے ٹوٹتے ہیں۔ مسٹر سچدیوا نے کہا کہ کانگریس نے ایک بار پھر اپنا ترقی مخالف کردار ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل محض ایک قانون سازی کا عمل نہیں تھا بلکہ خواتین کو لوک سبھا اور اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن دے کر انہیں فیصلہ سازی کے مرکزی دھارے میں لانے کا ایک تاریخی قدم تھا۔
انہوں نے مزید کہا، "اپوزیشن کے شاہی خاندان کے رہنما، جنہیں اپنے خاندان کے باہر کچھ نظر نہیں آتا، انہوں نے بل کو پاس ہونے سے روک کر ملک کی آدھی آبادی یعنی مادری طاقت کے حق کو ختم کرنے کا کام کیا ہے۔” رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے کہا، "میرا دل بہت رو رہا ہے۔ کل جب پارلیمنٹ میں بل پاس نہیں ہو سکا۔ آپ نے کل وزیر اعظم نریندر مودی کا چہرہ ضرور دیکھا ہوگا کہ کس طرح انہوں نے اپنے درد اور آنسوؤں کو روک کر رکھا۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی، عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے نے اس ملک کی خواتین کو چیلنج کیا ہے، خواتین انہیں اس کا جواب دیں گی۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ (خواتین) آج یہاں آئی ہیں اور ہم ان کی حمایت میں آئے ہیں۔”










