ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

خواتین کوٹہ بل میں ترمیم کی تجویز ناکام

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-04-18
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
خواتین کوٹہ بل میں ترمیم کی تجویز ناکام
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
لوک سبھا میں مرکز مطلوبہ دو تہائی ووٹ حاصل نہ کر سکا‘بل کے حق میں ۲۹۸ اور مخالفت میں ۲۳۰ ووٹ پڑ گئے
اب ملک کی خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں۳۳فیصد ریزرویشن نہیں ملے گا، جو ان کا حق تھا:وفاقی وزیر داخلہ
یہ بل آئین پر حملہ تھا‘ یہ خواتین کا ریزرویشن بل نہیں تھا، بلکہ ہندوستان کا انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش تھی:راہل
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۷؍اپریل
مرکز جمعہ کو لوک سبھا میں خواتین کے لیے ریزرویشن بل کی منظوری کے لیے ضروری دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ آئین(۱۳۱ویں ترمیمی) بل‘۲۰۲۶ کے حق میں۲۹۸ووٹ پڑے جبکہ۲۳۰؍ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
دو دیگر بل، جن میں لوک سبھا  نشستوں کی حد بندی اور نشستوں کی تعداد میں اضافہ شامل تھا، پہلے بل کی ناکامی کے بعد ووٹنگ کے لیے پیش نہیں کیے گئے۔ مرکز کا کہنا تھا کہ یہ بل خواتین کے کوٹہ سے متعلق بل سے’مکمل طور پر منسلک‘ تھے۔
لوک سبھا میں بحث جو جمعرات کی درمیانی رات اور جمعہ کو بھی جاری رہی، کے دوران مرکز نے پارلیمان کے ایوان زیریں اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے۳۳فیصد نشستوں کے ریزرویشن کے حق میں زوردار دلائل دیئے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کی طرف سے قیادت کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے ایک اہم خوف کو دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ لوک سبھا میں نشستوں میں اضافے کے ساتھ جنوبی ریاستوں کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔
مودی نے کہا’’آئیے ہم سب خواتین کو ریزرویشن دینے کے اس اہم موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ میں آپ سے اپیل کرنے آیا ہوں، اسے سیاسی عینک سے نہ دیکھیں، یہ قومی مفاد میں ہے‘‘۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی دونوں دن ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ ایک بار جب لوک سبھا میں نشستوں کی تعداد موجودہ۵۴۳سے بڑھا کر تقریباً۸۱۶ کر دی جائے گی تو جنوبی ریاستوں کی موجودہ نمائندگی کو برقرار رکھا جائے گا، یا اس میں معمولی اضافہ ہوگا۔
پی ایم مودی اور شاہ دونوں نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر بل کی مخالفت کرنے اور خواتین کو ریزرویشن سے محروم کرنے کے لیے مصنوعی مسائل پیدا کرنے کا الزام بھی لگایا۔ بی جے پی رہنماؤں نے کہا کہ ان جماعتوں کو بل روکنے کی قیمت انتخابات میں چکانی پڑے گی۔
بل کو حدودِ انتخاب سے منسلک کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے، قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت خواتین کے کوٹہ کے معاملے کو اسکرین کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور دراصل اپنے حق میں ملک کا انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
شاہ کاکہنا تھا’’یہ خواتین کا بل نہیں ہے کیونکہ اس کا خواتین کو بااختیار بنانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بل ہندوستان کی خواتین کو استعمال کرتے ہوئے اور ان کے پیچھے چھپ کر ملک کا انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے‘‘۔
گاندھی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت ذات کی مردم شماری کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔’’وہ میرے او بی سی بھائیوں اور بہنوں کو طاقت اور نمائندگی دینے سے بچنے کی کوشش

کر رہے ہیں، اور اس کے بجائے ان سے طاقت چھین رہے ہیں‘‘۔
بل لوک سبھا میں پاس نہ ہو سکنے کے بعد، پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے کہا کہ دیگر دو بل اس سے’مکمل طور پر منسلک‘ تھے۔ان کاکہنا تھا’’افسوس کی بات ہے کہ اپوزیشن نے ملک کے لوگوں کو عزت اور نمائندگی دینے کے لیے بنائے گئے اس تاریخی اور اہم بل کی حمایت نہیں کی۔ آپ کے پاس موقع تھا اور آپ نے اسے ضائع کر دیا۔ مودی حکومت کی خواتین کو حقوق دینے کی کوششیں اور جدوجہد جاری رہے گی‘‘۔
بی جے پی کے ارکان نے بھی پارلیمنٹ کمپلیکس میں احتجاج کیا۔
وزیر داخلہ شاہ نے کہا کہ کانگریس، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے، اور سماج وادی  پارٹی نے بل پاس نہیں ہونے دیا اور ان کی اس کی ’خوشی‘ کو’قابل مذمت‘ قرار دیا۔
شاہ نے ایکس پر پوسٹ کیا’’اب ملک کی خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں۳۳فیصد ریزرویشن نہیں ملے گا، جو ان کا حق تھا۔ کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے یہ پہلی بار نہیں بلکہ بار بار کیا ہے۔ ان کی ذہنیت نہ خواتین کے مفاد میں ہے نہ ملک کے‘‘۔
وزیر داخلہ کاکہنا تھا’’میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ناری شکتی کی یہ توہین یہیں نہیں رکے گی؛ یہ دور دور تک جائے گی۔ اپوزیشن کو نہ صرف۲۰۲۹کے لوک سبھا انتخابات میں بلکہ ہر سطح پر، ہر انتخاب میں خواتین کا غصہ بھگتنا پڑے گا‘‘۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، راہل گاندھی نے دوبارہ زور دے کر کہا کہ یہ بل آئین پر حملہ تھا۔ان کاکہنا تھا’’جیسا کہ میں نے ایوان میں کہا تھا، یہ بل آئین پر حملہ تھا، اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے اسے شکست دے دی ہے۔ یہ خواتین کا ریزرویشن بل نہیں تھا، بلکہ ہندوستان کا انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔ میں وزیراعظم سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر حکومت خواتین کے کوٹہ پر۲۰۲۳میں پاس ہونے والے بل پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے تو اپوزیشن اس کی۱۰۰فیصد حمایت کرے گی‘‘۔
گاندھی نے منٹوں بعد ایکس پر بھی لکھا اور مرکز کی اسکیم کو’آئین مخالف چال‘ قرار دیا جو ناکام ہوگئی کیونکہ اپوزیشن انڈیا اتحاد متحد رہا۔’’بھارت نے دیکھ لیا ہے۔ انڈیا نے اسے روک دیا ہے‘‘۔
کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی، جنہوں نے بھی ریزرویشن بل کو حدودِ انتخاب سے منسلک کرنے کے خلاف زوردار بات کی تھی، نے کہا’’ہم کبھی بھی خواتین کے ریزرویشن کو پرانی مردم شماری پر مبنی حدودِ انتخاب کے ساتھ منسلک کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے جس میں دیگر پسماندہ طبقات شامل نہیں ہیں۔ اس بل کا پاس ہونا ممکن نہیں تھا، اور میں یقین رکھتی ہوں کہ یہ ہماری جمہوریت اور ہمارے ملک کے اتحاد کے لیے ایک بڑی فتح ہے‘‘۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق راہل گاندھی نے ترنمول کانگریس کے قومی سکریٹری جنرل ابھیشیک بنرجی کو فون کیا اور بل کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
یہ کال اہم ہے کیونکہ جبکہ کانگریس اور ترنمول قومی سطح پر انڈیا اتحاد کا حصہ ہیں، یہ جماعتیں مغربی بنگال کی اسمبلی انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ کر رہی ہیں، جن کے لیے ووٹنگ۲۳؍اور۲۹؍اپریل کو ہوگی۔

متعلقہ

’جنتر منتر پر احتجاج کا پروگرام برقرار‘

’عمر کو صرف اپنی اقتدار کی واپسی کی فکر ہے‘عوامی حقوق کی نہیں‘

لوک سبھا میں مرکز مطلوبہ دو تہائی ووٹ حاصل نہ کر سکا‘بل کے حق میں ۲۹۸ اور مخالفت میں ۲۳۰ ووٹ پڑ گئے
اب ملک کی خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں۳۳فیصد ریزرویشن نہیں ملے گا، جو ان کا حق تھا:وفاقی وزیر داخلہ
یہ بل آئین پر حملہ تھا‘ یہ خواتین کا ریزرویشن بل نہیں تھا، بلکہ ہندوستان کا انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش تھی:راہل
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۷؍اپریل
مرکز جمعہ کو لوک سبھا میں خواتین کے لیے ریزرویشن بل کی منظوری کے لیے ضروری دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ آئین(۱۳۱ویں ترمیمی) بل‘۲۰۲۶ کے حق میں۲۹۸ووٹ پڑے جبکہ۲۳۰؍ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
دو دیگر بل، جن میں لوک سبھا  نشستوں کی حد بندی اور نشستوں کی تعداد میں اضافہ شامل تھا، پہلے بل کی ناکامی کے بعد ووٹنگ کے لیے پیش نہیں کیے گئے۔ مرکز کا کہنا تھا کہ یہ بل خواتین کے کوٹہ سے متعلق بل سے’مکمل طور پر منسلک‘ تھے۔
لوک سبھا میں بحث جو جمعرات کی درمیانی رات اور جمعہ کو بھی جاری رہی، کے دوران مرکز نے پارلیمان کے ایوان زیریں اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے۳۳فیصد نشستوں کے ریزرویشن کے حق میں زوردار دلائل دیئے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کی طرف سے قیادت کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے ایک اہم خوف کو دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ لوک سبھا میں نشستوں میں اضافے کے ساتھ جنوبی ریاستوں کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔
مودی نے کہا’’آئیے ہم سب خواتین کو ریزرویشن دینے کے اس اہم موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ میں آپ سے اپیل کرنے آیا ہوں، اسے سیاسی عینک سے نہ دیکھیں، یہ قومی مفاد میں ہے‘‘۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی دونوں دن ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ ایک بار جب لوک سبھا میں نشستوں کی تعداد موجودہ۵۴۳سے بڑھا کر تقریباً۸۱۶ کر دی جائے گی تو جنوبی ریاستوں کی موجودہ نمائندگی کو برقرار رکھا جائے گا، یا اس میں معمولی اضافہ ہوگا۔
پی ایم مودی اور شاہ دونوں نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر بل کی مخالفت کرنے اور خواتین کو ریزرویشن سے محروم کرنے کے لیے مصنوعی مسائل پیدا کرنے کا الزام بھی لگایا۔ بی جے پی رہنماؤں نے کہا کہ ان جماعتوں کو بل روکنے کی قیمت انتخابات میں چکانی پڑے گی۔
بل کو حدودِ انتخاب سے منسلک کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے، قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت خواتین کے کوٹہ کے معاملے کو اسکرین کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور دراصل اپنے حق میں ملک کا انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
شاہ کاکہنا تھا’’یہ خواتین کا بل نہیں ہے کیونکہ اس کا خواتین کو بااختیار بنانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بل ہندوستان کی خواتین کو استعمال کرتے ہوئے اور ان کے پیچھے چھپ کر ملک کا انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے‘‘۔
گاندھی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت ذات کی مردم شماری کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔’’وہ میرے او بی سی بھائیوں اور بہنوں کو طاقت اور نمائندگی دینے سے بچنے کی کوشش

کر رہے ہیں، اور اس کے بجائے ان سے طاقت چھین رہے ہیں‘‘۔
بل لوک سبھا میں پاس نہ ہو سکنے کے بعد، پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے کہا کہ دیگر دو بل اس سے’مکمل طور پر منسلک‘ تھے۔ان کاکہنا تھا’’افسوس کی بات ہے کہ اپوزیشن نے ملک کے لوگوں کو عزت اور نمائندگی دینے کے لیے بنائے گئے اس تاریخی اور اہم بل کی حمایت نہیں کی۔ آپ کے پاس موقع تھا اور آپ نے اسے ضائع کر دیا۔ مودی حکومت کی خواتین کو حقوق دینے کی کوششیں اور جدوجہد جاری رہے گی‘‘۔
بی جے پی کے ارکان نے بھی پارلیمنٹ کمپلیکس میں احتجاج کیا۔
وزیر داخلہ شاہ نے کہا کہ کانگریس، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے، اور سماج وادی  پارٹی نے بل پاس نہیں ہونے دیا اور ان کی اس کی ’خوشی‘ کو’قابل مذمت‘ قرار دیا۔
شاہ نے ایکس پر پوسٹ کیا’’اب ملک کی خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں۳۳فیصد ریزرویشن نہیں ملے گا، جو ان کا حق تھا۔ کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے یہ پہلی بار نہیں بلکہ بار بار کیا ہے۔ ان کی ذہنیت نہ خواتین کے مفاد میں ہے نہ ملک کے‘‘۔
وزیر داخلہ کاکہنا تھا’’میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ناری شکتی کی یہ توہین یہیں نہیں رکے گی؛ یہ دور دور تک جائے گی۔ اپوزیشن کو نہ صرف۲۰۲۹کے لوک سبھا انتخابات میں بلکہ ہر سطح پر، ہر انتخاب میں خواتین کا غصہ بھگتنا پڑے گا‘‘۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، راہل گاندھی نے دوبارہ زور دے کر کہا کہ یہ بل آئین پر حملہ تھا۔ان کاکہنا تھا’’جیسا کہ میں نے ایوان میں کہا تھا، یہ بل آئین پر حملہ تھا، اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے اسے شکست دے دی ہے۔ یہ خواتین کا ریزرویشن بل نہیں تھا، بلکہ ہندوستان کا انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔ میں وزیراعظم سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر حکومت خواتین کے کوٹہ پر۲۰۲۳میں پاس ہونے والے بل پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے تو اپوزیشن اس کی۱۰۰فیصد حمایت کرے گی‘‘۔
گاندھی نے منٹوں بعد ایکس پر بھی لکھا اور مرکز کی اسکیم کو’آئین مخالف چال‘ قرار دیا جو ناکام ہوگئی کیونکہ اپوزیشن انڈیا اتحاد متحد رہا۔’’بھارت نے دیکھ لیا ہے۔ انڈیا نے اسے روک دیا ہے‘‘۔
کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی، جنہوں نے بھی ریزرویشن بل کو حدودِ انتخاب سے منسلک کرنے کے خلاف زوردار بات کی تھی، نے کہا’’ہم کبھی بھی خواتین کے ریزرویشن کو پرانی مردم شماری پر مبنی حدودِ انتخاب کے ساتھ منسلک کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے جس میں دیگر پسماندہ طبقات شامل نہیں ہیں۔ اس بل کا پاس ہونا ممکن نہیں تھا، اور میں یقین رکھتی ہوں کہ یہ ہماری جمہوریت اور ہمارے ملک کے اتحاد کے لیے ایک بڑی فتح ہے‘‘۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق راہل گاندھی نے ترنمول کانگریس کے قومی سکریٹری جنرل ابھیشیک بنرجی کو فون کیا اور بل کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
یہ کال اہم ہے کیونکہ جبکہ کانگریس اور ترنمول قومی سطح پر انڈیا اتحاد کا حصہ ہیں، یہ جماعتیں مغربی بنگال کی اسمبلی انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ کر رہی ہیں، جن کے لیے ووٹنگ۲۳؍اور۲۹؍اپریل کو ہوگی۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سرحدی دیہاتوں کی ترقی قومی سلامتی کا لازمی جزو ہے:سنہا

Next Post

راجستھان رائلز کے مینیجر رومی بھنڈر کو موبائل فون کے استعمال پر کلین چٹ، معمولی جرمانہ عائد

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’جنتر منتر پر احتجاج کا پروگرام برقرار‘
اہم ترین

’جنتر منتر پر احتجاج کا پروگرام برقرار‘

2026-07-16
’عمر کو صرف اپنی اقتدار کی واپسی کی فکر ہے‘عوامی حقوق کی نہیں‘
اہم ترین

’عمر کو صرف اپنی اقتدار کی واپسی کی فکر ہے‘عوامی حقوق کی نہیں‘

2026-07-16
 متنازعہ کتاب تنازع: جموں یونیورسٹی نے بلیک لسٹ مصنفین اور ناشرین پر پابندی عائد کر دی
اہم ترین

 متنازعہ کتاب تنازع: جموں یونیورسٹی نے بلیک لسٹ مصنفین اور ناشرین پر پابندی عائد کر دی

2026-07-16
 سنہا کابھگوتی نگر یاتری نواس میں یاتریوں کی سہولیات کا جائزہ
اہم ترین

 سنہا کابھگوتی نگر یاتری نواس میں یاتریوں کی سہولیات کا جائزہ

2026-07-16
ہمالیہ میں برف باری سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، نئی تحقیق کا انکشاف
اہم ترین

ہمالیہ میں برف باری سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، نئی تحقیق کا انکشاف

2026-07-16
فنڈنگ بحران :پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی یونیورسٹی بند‘۸ہزارطلبہ متاثر
اہم ترین

پی او کے نہ ’آزاد‘ ہے، نہ ’متنازع‘، بلکہ ’زیرِ قبضہ‘ علاقہ ہے:مقامی رہنما

2026-07-16
جموں و کشمیر میں بڑا ردوبدل‘۸۲پولیس افسران تبدیل
اہم ترین

  پربھات کا کارگو کمپلیکس سری نگر  کا دورہ، سکیورٹی تیاریوں کا جائزہ

2026-07-16
ایل اور سی پر سکوت:کیرن علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں شروع ہونے لگیں
اہم ترین

 سانبہ میں بین الاقوامی سرحد  کے قریب کھیت میں مشتبہ  سوراخ ملنے پر سرچ آپریشن

2026-07-16
Next Post
زخمی کیمرون گرین کی جگہ لابوشین آسٹریلیائی ٹیم میں شامل

راجستھان رائلز کے مینیجر رومی بھنڈر کو موبائل فون کے استعمال پر کلین چٹ، معمولی جرمانہ عائد

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.