نئی دہلی، 14 اپریل (یو این آئی) سپریم کورٹ نے ایک اہم تبصرے میں کہا ہے کہ اگر سروس رولز میں تجربے، اہلیت یا سینئرٹی کی بنیاد پر چھوٹ کا کوئی انتظام موجود ہے، تو کسی ملازم کو محض ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے ترقی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں ایک کوآپریٹو سوسائٹی کے ملازم کو ترقی دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ جب دیگر ملازمین کو ایسی ہی رعایت دی گئی، تو اس معاملے میں تعلیمی اہلیت میں رعایت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 14 اور 16 کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے ریمارکس دیے کہ ‘امتیازی سلوک ، ناانصافی کا ہی دوسرا نام ہے’۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں مساوات کے حق پر عمل کرنا لازمی ہے۔
عدالت نے یہ تبصرہ ایک پرائمری ایگریکلچرل کوآپریٹو سوسائٹی کے ملازم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کیا، جس نے تقریباً تین دہائیوں تک خدمات انجام دی تھیں۔ سوسائٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ان کی طویل ملازمت، سینئرٹی اور تجربے کی بنیاد پر انہیں ‘سوسائٹی مینیجر’ کے عہدے پر ترقی دینے کی سفارش کی تھی۔
اس سفارش میں ان کی تعلیمی اہلیت کی ضرورت میں چھوٹ بھی شامل تھی۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے سنگل جج نے ملازم کی درخواست منظور کرتے ہوئے چھوٹ کا فائدہ دینے کی ہدایت دی تھی، تاہم ڈویژن بنچ نے اس فیصلے کو پلٹتے ہوئے کہا تھا کہ ملازم کے پاس مطلوبہ اہلیت نہیں تھی اور رجسٹرار کا چھوٹ دینے سے انکار درست تھا۔










