نئی دہلی، 13 اپریل (یو این آئی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز ایک مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے، جس میں حکومت کو مناسب طریقے سے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) طے کرنے کی ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر کے کسانوں پرکاش گوپال راؤ پوہرے، پرشوتم گاؤڈے اور وشال اوم پرکاش راوت کی جانب سے آئین کی دفعہ 32 کے تحت دائر کردہ اس عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فصلوں پر ایم ایس پی پیداواری لاگت سے کم از کم 50 فیصد زیادہ ہونا چاہیے۔ اسے طے کرتے وقت متعلقہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے تجویز کردہ کاشتکاری کی اصل لاگت (سی 2) کو موثر اہمیت دی جانی چاہیے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے ان دلائل کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ یہ مسئلہ ملک بھر کے کسانوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس پی کی کمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں کسانوں نے خودکشیاں کی ہیں۔
مسٹر بھوشن نے کہا کہ ایم ایس پی اکثر کاشتکاری کی جامع لاگت سے بھی کم شرح پر طے کی جاتی ہے اور ایم ایس پی پر خریداری صرف گندم اور چاول جیسی فصلوں کے لیے ہی اہم ہے، جس کی وجہ سے دیگر فصلیں اگانے والے کسان شدید بحران کا شکار ہیں۔
عرضی گزاروں کا کہنا تھا کہ ایم ایس پی کا موجودہ طریقہ کار بنیادی طور پراے 2 ایف ایل (لاگت اور خاندانی محنت) پر مبنی ہے، جبکہ اس میں زمین کی قیمت اور ورکنگ کیپٹل پر سود کو شامل نہیں کیا جاتا۔










