نئی دہلی، 13 اپریل (یو این آئی) دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے پیر کے روز کہا کہ دارالحکومت میں گھریلو اور کمرشل ایل پی جی کی فراہمی مکمل طور پر مستحکم، کافی اور کنٹرول میں ہے۔محترمہ گپتا نے آج کہا کہ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ایل پی جی یا کسی دوسرے ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہ یا گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں اور صبر و تحمل سے کام لیں۔ انہوں نے بتایا کہ 12 اپریل کو 1,11,766 بکنگ درج کی گئیں، جبکہ تینوں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مل کر 1,30,094 سلنڈروں کی ڈیلیوری کی، جو کہ بکنگ سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زیرِ التوا بکنگز کو تیزی سے نمٹایا جا رہا ہے اور سپلائی چین مضبوط بنی ہوئی ہے۔ موجودہ وقت میں اوسط ڈیلیوری کا وقت 3.87 دن ہے، جو پہلے کے 4.24 دنوں سے کم ہوا ہے، جس سے صارفین کو بروقت گھر پر ڈیلیوری یقینی ہو رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ دہلی کو روزانہ 6,480 کمرشل ایل پی جی سلنڈروں (19 کلوگرام کے مساوی) کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ ایک ہفتے میں اوسط روزانہ کھپت صرف 4,268 سلنڈر رہی ہے، جس میں 5 کلوگرام کے فری ٹریڈ ایل پی جی سلنڈروں کی کھپت بھی شامل ہے۔ یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت دستیابی مانگ سے زیادہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے تمام کمرشل ایل پی جی صارفین، بالخصوص 5 کلوگرام سلنڈر استعمال کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن برقرار رکھیں اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری تشویش یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔ پورے شہر میں تقسیم کا نظام مکمل طور پر خوش اسلوبی سے کام کر رہا ہے اور وافر اسٹاک دستیاب ہے۔ صارفین کی سہولت کے لیے، اگر کسی کمرشل صارف کو ایل پی جی سلنڈر حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش آتی ہے تو وہ دہلی حکومت کے محکمہ خوراک اورعوامی نظام تقسیم کے کنٹرول روم سے 011-23379836 یا 8383824659 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت ہفتے کے تمام دنوں میں صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک دستیاب ہے۔
حکومت نے صارفین اور اداروں کی اس بات پر بھی حوصلہ افزائی کی ہے کہ جہاں بھی پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی ) کی سہولت میسر ہے، وہاں اس کا استعمال کریں کیونکہ یہ ایک قابلِ اعتماد اور مسلسل ایندھن کی فراہمی فراہم کرتی ہے۔ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسے بڑے صارفین کو جلد از جلد پی این جی اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے، جس سے کارکردگی، تحفظ اور سپلائی کے بھروسے میں اضافہ ہوگا۔










