(یو این آئی)
سرینگر؍۱۰؍اپریل
جموں و کشمیر پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ لشکرِ طیبہ کے بین ریاستی ماڈیول کا حصہ ایک پاکستانی دہشت گرد جعلی دستاویزات کے ذریعے ہندوستانی پاسپورٹ حاصل کر کے ملک سے کیسے فرار ہونے میں کامیاب ہوا، سرکاری ذرائع نے آج بتایا۔
یہ تحقیقات حال ہی میں جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے لشکرِ طیبہ کے ایک بڑے کثیر ریاستی نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے کے بعد شروع کی گئی ہے۔
کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دو پاکستانی دہشت گردوں کو گرفتار ‘عبداللہ عرف ابو ہریرہ، جو ایک اعلیٰ کمانڈر تھا اور۲۰۱۰ کے آس پاس وادی میں دراندازی کر کے آیا تھا اور مبینہ طور پر بھرتیوں میں ملوث تھا، اور عثمان عرف خبیب۔ دونوں کو ’اے پلس کیٹیگری‘ میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم ان کا تیسرا پاکستانی ساتھی۲۰۲۴ میں ہندوستان سے فرار ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس ماڈیول کا تیسرا رکن، جسے خفیہ نام ’خرگوش‘سے جانا جاتا ہے، وادی میں دراندازی کے بعد سرینگر کے مختلف علاقوں میں سرگرم رہا اور بعد میں۲۰۲۲ کے آس پاس نیٹ ورک کے دیگر ارکان کے ساتھ جموں و کشمیر سے باہر منتقل ہو گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ اس نے بعد میں راجستھان میں جعلی دستاویزات کے ذریعے ہندوستانی پاسپورٹ حاصل کیا اور۲۰۲۴میں جنوب مشرقی ایشیا کا سفر کیا۔
حکام کے مطابق تحقیقات کا مرکز یہ جاننا ہے کہ اس انتہا پسند نے جعلی شناختی کاغذات کیسے حاصل کیے، پاسپورٹ کیسے بنوایا، اور بغیر پکڑے گئے ملک سے کیسے نکل گیا۔ مرکزی ایجنسیاں بھی اس تحقیقات میں شامل ہو چکی ہیں تاکہ نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے اور ممکنہ معاونین کی شناخت کی جا سکے۔
ذرائع نے ’خرگوش‘ کو اس ماڈیول کا ایک اہم کردار قرار دیا ہے، جس نے ایسے وقت میں اس کے اڈے کو جموں و کشمیر سے باہر منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جب سیکیورٹی فورسز نے خطے میں انسداد دہشت گردی کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔
گرفتار شدہ دو پاکستانی دہشت گرد ‘عبداللہ اور عثما ن ‘ اپنے ایک مقامی ساتھی غلام محمد میر عرف ماما کے ساتھ اس ہفتے سرینگر کی خصوصی عدالت میں پیش کیے گئے اور انہیں۱۶ ؍اپریل تک پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔










