ہماری یونٹ میں بہت سے ایسے اُساتذہ ہیں جو قرآن اور گرو گرنتھ کو بھی سمجھتے ہیں:جنرل دیویدی
سرینگر؍۱۰؍اپریل
آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی کا کہنا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران بھارتی فوج نے نماز کے دوران حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
شائع ہونے والے ایک انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں جنرل دویدی کا کہنا تھا کہ ’آپریشن کے دوران ایک موقع پر ہم اپنے اہداف کو تباہ کرنے کے وقت کا تعین کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے حملے کا وقت دو بجے، چار بجے یا کوئی بھی بھی وقت ہو سکتا تھا۔
ان کامزید کہنا تھا’لیکن ہم نے یہ یقینی بنایا کہ ہم اس وقت دہشت گردوں کے کیمپوں پر حملہ نہ کریں جب وہاں لوگ نماز پڑھ رہے ہوں کیونکہ سب کا خدا ایک ہی ہے۔‘
جنرل دویدی نے مزید کہا، ’اسی لیے ہم نے وہ وقت چنا جب ہمیں معلوم تھا کہ نماز ادا نہیں کی جا رہی ہو گی۔‘
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب گذشتہ برس مئی میں بھارت اور پاکستان کے مابین ہونے والی لڑائی کے دوران انڈین فوجی قیادت کی جانب سے آپریشن سندور پر بات کی گئی ہو۔
اس سے قبل بھارتی ایئر فورس چیف اور دیگر اعلی حکام بھی ’آپریشن سندور‘ میں پاکستان میں دہشت گردی کے کیمپ کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ تاہم آرمی چیف کی جانب سے اس لڑائی کے دوران وقت کے تعین اور نمازیوں کا خیال رکھنے کا بیان پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔
انٹرویو کے دوران بھارت کے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ وہ کوئی بھی بڑا فیصلہ لینے سے پہلے ’گیتا‘ سے رہنمائی لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی لڑائی کے دوران لوگوں کا اجتماعی نقصان نہ ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری یونٹ میں بہت سے ایسے اُساتذہ ہیں جو قرآن اور گرو گرنتھ کو بھی سمجھتے ہیں اور میرا معمول ہے کہ میں ان کے ساتھ بھی بیٹھتا ہوں، اور اُن سے پوچھتا ہوں کہ یہ صورتحال ہے، آپ کی مذہبی کتاب کیا کہتی ہے؟
جنرل دیویدی کا کہنا تھا کہ ’ہر مذہبی کتاب آپ کو ہر مسئلے کا جواب دیتی ہے، ایسے میں آپ کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط۔‘
بھارتی آرمی چیف کے بیان پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے اور صارفین اس پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ۲۲؍ اپریل ۲۰۲۵ کو جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے کہا تھا کہ۶۔۷مئی کی درمیانی شب کو اس نے پاکستان میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا، جس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع شروع ہوا تھا۔
پاکستان اور بھارت کے مابین کھلی جنگ کے خدشات بڑھ رہے تھے کہ۱۰ مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے جنگ بندی ہونے کا اعلان کیا۔










