ایوان غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی‘ حکومت کی جانب سے آٹھ بل پیش کیے گئے جو تمام منظور کیے گئے
ایجنسیز
جموں؍۴ ؍اپریل
اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ہفتہ کے روز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا، جو فروری، مارچ اور اپریل پر محیط۲۲نشستوں پر مشتمل ایک کامیاب بجٹ اجلاس کے بعد اختتام پذیر ہوا۔
اجلاس کا آغاز۲فروری کو ہوا تھا جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے۶فروری کو بجٹ پیش کیا۔۲۰ فروری تک روزانہ دو نشستوں میں مختلف محکموں کے گرانٹس تفصیلی بحث کے بعد منظور کیے گئے۔ پانچ ہفتوں کے وقفے کے بعد بجٹ اجلاس۲۷ مارچ کو دوبارہ شروع ہوا۔
اسپیکر نے بتایا کہ اسمبلی نے مجموعی طور پر۲۲ نشستیں منعقد کیں، جو ریاستوں میں دوسری سب سے زیادہ تعداد ہے، جبکہ گجرات۲۳نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔
راتھر نے کہا کہ اس اجلاس کے دوران ایوان نے مجموعی طور پر۶۶۳۶منٹ تک کام کیا۔ اس دوران حکومت کی جانب سے آٹھ بل پیش کیے گئے اور تمام منظور کیے گئے۔ اس کے علاوہ۲۵دستاویزات ایوان میں پیش کیے گئے اور ایک آرڈیننس بھی رکھا گیا۔
نجی اراکین کے امور کے حوالے سے اسپیکر نے بتایا کہ گزشتہ اجلاس سے۳۶ بل زیر التوا تھے جبکہ اس اجلاس کے دوران۳۹نئے بل موصول ہوئے۔ ان میں سے۷۲بل فہرست میں شامل کیے گئے،۲۴پر غور کیا گیا اور دو بل پیش کیے گئے۔
سوالات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر۱۵۲۸سوالات موصول ہوئے جن میں۸۰۲؍اسٹارڈ اور۷۲۶؍ان اسٹارڈ سوالات شامل تھے۔ جانچ کے بعد۱۳۷۹ سوالات فہرست میں شامل کیے گئے جبکہ۱۴۴مسترد، دو واپس لیے گئے اور تین سوالات فہرست میں شامل نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایوان میں۱۵۱اسٹارڈ سوالات پر غور کیا گیا جن کے ساتھ۳۳۱ضمنی سوالات بھی کیے گئے۔اسی طرح۱۱۰ کالنگ اٹینشن نوٹس موصول ہوئے جن میں سے۶۳ مسترد اور۴۷منظور کیے گئے۔۲۶ نوٹس فہرست میں شامل کیے گئے اور تمام۲۶پر بحث کی گئی۔
قراردادوں کے حوالے سے اسپیکر نے بتایا کہ۱۲۸ قراردادیں موصول ہوئیں، جن میں سے۱۰۱ منظور‘۲۷ مسترد‘۱۴فہرست میں شامل اور چار پر غور کیا گیا، تاہم کوئی بھی منظور نہ ہو سکی۔ انہوں نے دو مختصر مدتی مباحثوں کا بھی ذکر کیا جبکہ ایوان کو۲۲۳۱ کٹ موشنز موصول ہوئیں، جن میں سے۲۰۵۹ منظور اور۱۷۲مسترد ہوئیں۔
اسپیکر نے اراکین کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایوان نے جمہوری روایات کو فروغ دیتے ہوئے تمام جماعتوں کے اراکین کو اظہار خیال کا بھرپور موقع فراہم کیا۔انہوں نے وزراء کے کام کے بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں اور ایوان میں سوالات کے جواب دینا ایک مشکل ذمہ داری ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور چیف سیکریٹری اٹل ڈلو سمیت سرکاری افسران کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا خود ایوان میں موجود رہ کر سوالات کے جواب دینا ان کی سنجیدگی اور جوابدہی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، جو ایک مثبت روایت ہے۔
آخر میں اسپیکر نے اعلان کیا کہ آج کی کارروائی یہیں ختم ہوتی ہے اور ایوان کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے۔اس سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے بھی بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کی خوش اسلوبی سے کارروائی چلانے پر اسپیکر کی تعریف کی۔










