ویب ڈیسک
سرینگر؍۳؍ اپریل
سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے اپنا نیا نصاب جاری کر دیا ہے، جس کے تحت تعلیمی سال۲۰۲۶۔۲۷سے جماعت ششم میں تین زبانوں کے فارمولے کا مرحلہ وار نفاذ کیا جائے گا، جبکہ جماعت نہم کے لیے ریاضی اور سائنس میں دو سطحی نظام متعارف کرایا جائے گا، حکام نے جمعہ کو یہ بات بتائی۔
نئی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے تحت لازمی قرار دیے گئے تین زبانوں کے فارمولے کو۲۰۲۶سے جماعت ششم میں نافذ کیا جائے گا، جبکہ ریاضی اور سائنس میں لازمی معیاری (اسٹینڈرڈ) اور اختیاری اعلیٰ (ایڈوانسڈ) کورسز پر مشتمل دو سطحی نظام جماعت نہم میں متعارف کرایا جائے گا۔
ایک سینئر بورڈ عہدیدار نے کہا’’زبانوں کو ایک منظم تین زبانوں کے فریم ورک کے تحت مختلف مراحل‘آر ون ،آر ٹو اور آر تھری میں ترتیب دیا گیا ہے۔ نئے قومی نصابی خاکے (این سی ایف) کی سفارشات کے مطابق ان تین زبانوں میں سے دو کا بھارت کی مقامی زبانوں میں ہونا ضروری ہے۔ بورڈ کی جانب سے کثیر لسانی تعلیم کے مرحلہ وار نفاذ کے تسلسل میں، تعلیمی سال۲۰۲۶۔۲۷ سے جماعت ششم میں تیسری زبان کو لازمی قرار دیا جائے گا، تاکہ ہر طالب علم کم از کم دو بھارتی زبانیں سیکھے‘‘۔
عہددار نے مزید کہا’’اگرچہ یہ بہتر ہے کہ زبانوں کی یہی اسکیم اختیار کی جائے، تاہم غیر معمولی حالات میں، جیسے بیرونِ ملک اسکولوں سے واپس آنے والے طلبہ کے لیے، جہاں انہوں نے جماعت ہشتم یا نہم تک جو تیسری زبان پڑھی ہو وہ ملک کے اندر دستیاب نہ ہو، ایسے طلبہ کو منظور شدہ ضوابط کے تحت استثنا دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایسے طلبہ کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ نصاب کے مطابق کل مضامین کی مقررہ تعداد ضرور مکمل کریں‘‘۔
ریاضی اور سائنس میں ایک بڑی ساختی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی، جہاں تعلیمی سال۲۰۲۶۔۲۷ سے دو سطحی نظام متعارف کیا جائے گا۔
عہدیدار نے کہا’’تمام طلبہ معیاری نصاب کا مطالعہ کریں گے اور تین گھنٹے پر مشتمل۸۰نمبروں کے مشترکہ امتحان میں شرکت کریں گے؛ جبکہ اعلیٰ مہارت حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ ان مضامین میں سے کسی ایک یا دونوں میں اضافی ’ایڈوانسڈ‘سطح کا انتخاب کر سکیں گے۔ یہ ایڈوانسڈ جزو۲۵نمبروں پر مشتمل ایک الگ، ایک گھنٹے کا پرچہ ہوگا، جس کا مقصد اعلیٰ درجے کی فکری صلاحیت اور گہری مفہوم کی سمجھ کا جائزہ لینا ہے۔
ان کامزید کہنا تھا’’طلبہ کے لیے معیاری امتحان دینا لازمی ہوگا، جبکہ ایڈوانسڈ پرچہ اختیاری رہے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ ایڈوانسڈ پرچے کے نمبرز مجموعی فیصد میں شامل نہیں کیے جائیں گے؛ بلکہ جو طلبہ اس میں۵۰ فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کریں گے، ان کی مارک شیٹ میں ایڈوانسڈ سطح کی اہلیت کو الگ سے درج کیا جائے گا‘‘ ۔
ریاضی اور سائنس میں یہ دو سطحی نظام (معیاری اور ایڈوانسڈ) تعلیمی سال۲۰۲۶۔۲۷ میں جماعت نہم کے طلبہ کے لیے شروع ہوگا، اور اسی نظام کے تحت جماعت دہم کے پہلے بورڈ امتحانات۲۰۲۸ میں لیے جائیں گے۔ (ایجنسیاں)










