جموں؍۳؍اپریل
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 18 لاکھ کنال سے زائد اراضی پر قبضہ کیا جا چکا ہے، جبکہ اب تک صرف 29 ہزار کنال اراضی قابضین سے واگزار کرائی جا سکی ہے۔
سرکاری اعداد کے مطابق مجموعی طور پر 18,38,735.42 کنال اراضی پر قبضہ ہے، جس میں 17,22,993 کنال سرکاری زمین اور 1,15,742.42 کنال جنگلاتی زمین شامل ہے۔
اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ ریونیو ریکارڈ میں درج تجاوزات کے اندراجات کو خارج کر دیا گیا ہے۔
محکمہ ریونیو کے حکام نے بتایا کہ قابضین کو ہٹانے کے لیے لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعات کے تحت کارروائی کی گئی۔ تاہم حکام نے اس مسئلے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے دخلی مہم جاری ہے، مگر اس کے لیے کوئی مقررہ مدت طے نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قابضین کا انخلا اور سرکاری و جنگلاتی زمین کی بازیابی ایک مسلسل عمل ہے۔
اضلاع کے اعتبار سے جموں میں 1,45,487 کنال اور 6 مرلہ سرکاری زمین پر قبضہ ہے، جبکہ راجوری 2,73,848 کنال اور 12 مرلہ کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد ریاسی میں 2,26,857 کنال اور 6 مرلہ زمین پر قبضہ ہے۔
دیگر بڑے اضلاع میں رامبن (1,73,832 کنال)، کٹھوعہ (1,30,403 کنال)، ادھم پور (1,19,822 کنال) اور پونچھ (1,11,133 کنال) شامل ہیں۔
جموں و کشمیر میں زمین کی پیمائش روایتی طور پر ’کنال‘ اور ’مرلہ‘ میں کی جاتی ہے، جو جائیداد اور زراعت میں آج بھی رائج ہے۔ ایک کنال 20 مرلہ کے برابر ہوتا ہے، اور ایک کنال تقریباً 5,445 مربع فٹ جبکہ ایک مرلہ تقریباً 272.25 مربع فٹ کے برابر ہوتا ہے (اگرچہ مقامی طور پر معمولی فرق ہو سکتا ہے)۔
کشمیر ڈویژن میں بانڈی پورہ میں 1,53,271 کنال سرکاری زمین پر قبضہ رپورٹ ہوا ہے، اس کے بعد بارہمولہ (53,449 کنال) اور پلوامہ (42,730 کنال) شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پورے یو ٹی میں جنگلاتی زمین پر بھی بڑے پیمانے پر قبضہ ہوا ہے۔
جموں ڈویژن میں راجوری میں سب سے زیادہ 4,899.16 ہیکٹر جنگلاتی زمین پر قبضہ ہے، اس کے بعد ریاسی (2,780.38 ہیکٹر) اور رامبن (2,648.63 ہیکٹر) ہیں۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں پونچھ (965.92 ہیکٹر)، جموں (645.85 ہیکٹر) اور کٹھوعہ (590.38 ہیکٹر) شامل ہیں۔
کشمیر میں اننت ناگ، شوپیاں-پلوامہ اور بڈگام کے جنگلاتی ڈویژنز میں بھی قابل ذکر تجاوزات رپورٹ ہوئی ہیں۔ خطے میں مجموعی طور پر 5,857.41 ہیکٹر جنگلاتی زمین زیر قبضہ ہے۔
حکام کے مطابق اب تک 29,067.15 کنال اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے، جس میں 27,351 کنال سرکاری زمین جبکہ 1,716.15 کنال جنگلاتی زمین شامل ہے۔
اعداد کے مطابق اکتوبر 2024 سے مختلف اضلاع میں اراضی کی بازیابی کی گئی ہے۔ نمایاں بازیابی میں ڈوڈہ میں 13,674 کنال اور 13 مرلہ، کشتواڑ میں 6,245 کنال اور رامبن میں 3,362 کنال سرکاری زمین واگزار کرائی گئی، جبکہ ریاسی میں 1,961 کنال زمین بازیاب ہوئی۔
کولگام میں جنگلاتی زمین کی سب سے زیادہ بازیابی 39.70 ہیکٹر ریکارڈ کی گئی، اس کے بعد اننت ناگ (12.33 ہیکٹر) اور رامبن (10.87 ہیکٹر) شامل ہیں۔دیگر اضلاع جیسے گاندربل، سامبا اور راجوری میں بھی کم پیمانے پر بازیابی رپورٹ ہوئی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ جنگلاتی محکمہ، فاریسٹ پروٹیکشن فورس اور پولیس کے اشتراک سے مشترکہ بے دخلی مہم جاری ہے۔
حکام نے بتایا کہ نئی تجاوزات یا غیر قانونی کاشت کی کوششوں کا ابتدائی مرحلے میں ہی پتہ لگا کر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ جنگلاتی حدود کی نشاندہی کے لیے ڈیفرینشل جی پی ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے دوبارہ سروے کیا جا رہا ہے، جبکہ فیلڈ اسٹاف کو حساس علاقوں میں سخت نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگلات سے متصل دیہات میں آگاہی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں تاکہ مقامی آبادی کو تحفظِ ماحول کی اہمیت سے روشناس کرایا جا سکے۔
حکام کے مطابق جموں و کشمیر ہائی کورٹ عوامی مفاد کی ایک عرضی میں تجاوزات کے خاتمے کی پیش رفت کی نگرانی کر رہی ہے، اور اس سلسلے میں باقاعدہ اسٹیٹس رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں۔










