خواتین زیرویشن بل کا نفاذ اورحد بندی کو مردم شماری سے الگ کرنے کا بل پیش کیا جا سکتا ہے
(وی ڈیسک )
سرینگر؍۲؍اپریل
اس امکان کے درمیان کہ حکومت خواتین کے لیے مقننہ میں ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کرنے سے متعلق بل لا سکتی ہے، پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو راجیہ سبھا کو بتایا کہ ایوان کو ملتوی کیا جائے گا اور جلد ہی ایک ’انتہائی اہم‘بل کے لیے دوبارہ اجلاس ہوگا۔
ایوانِ بالا میں کانگریس رہنما جے رام رمیش نے حکومت کے منصوبے کے بارے میں سوال کیا۔
رجیجو نے جواب میں کہا کہ ایوانِ بالا جمعرات کو آندھرا پردیش ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل اور جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل کو منظوری کے لیے زیر غور لائے گا، جو پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا آخری دن مقرر تھا۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا’’ہمارے پاس کچھ اہم امور ہیں، ہم نے یہ اپوزیشن کے ساتھ بھی شیئر کیا ہے۔ ہم اگلے۲تا۳ہفتوں میں ایک بہت اہم بل لانے جا رہے ہیں۔‘‘
رجیجونے کہا’’آج حکومت ایوان کو ملتوی کرنے کی تجویز پیش کرے گی اور ہم بہت جلد دوبارہ ملیں گے؛ مقصد اراکین کو معلوم ہے‘‘۔
حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیک چینل بات چیت کر رہی ہے تاکہ کم از کم دو بل لائے جا سکیں‘ایک خواتین کے ریزرویشن قانون کے نفاذ کے لیے اور دوسرا مردم شماری سے حلقہ بندی (ڈی لِمٹیشن) کو الگ کرنے کے لیے، تاکہ لوک سبھا کی نشستوں کو موجودہ۵۴۶ سے بڑھا کر۸۶۱کیا جا سکے۔
تاہم، رمیش نے کہا کہ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹی میٹنگ اسمبلی انتخابات کے۲۹؍اپریل کو مکمل ہونے کے بعد ہی منعقد کی جائے۔
اس کے جواب میں رجیجو نے کہا کہ حکومت ملک کی خواتین سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کی پابند ہے۔
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے کہا کہ کانگریس مقننہ میں خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کرتی ہے، لیکن مجوزہ بل انتہائی اہم ہیں اور ان کے طویل مدتی اثرات ہوں گے۔
کھرگے نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حکومت ان بلوں کو پیش کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے کیونکہ مختلف ریاستوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں، تاہم رجیجو نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔










