حکومت دستیابی اور تقسیم پر مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے:شرما
ڈی آئی پی آر
جموں؍۳۱ مارچ
وزیر برائے خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین ستیش شرما نے آج قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں ایل پی جی اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور تقسیم پر مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے۔
شرما نے کہا’’آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کردہ یومیہ اسٹاک رپورٹ کے مطابق اس وقت پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی مکمل طور پر کافی ہے اور کسی قسم کی قلت نہیں ہے‘‘۔
وزیر یہ بات رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی کے کالنگ اٹینشن نوٹس کے جواب میں کہہ رہے تھے۔
شرما نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے باعث بعض علاقوں میں گھبراہٹ کے تحت خریداری (پینک بائنگ) دیکھنے میں آئی ہے، جس سے پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کھپت معمول سے زیادہ بڑھی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ ذخائر کافی ہیں اور عوام کو افواہوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔
رسدات و خوراک کے وزیر نے بتایا کہ ڈویژنل اور ضلعی سطح پر کنٹرول رومز قائم ہیں اور فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ محکمہ مختلف اضلاع میں باقاعدہ معائنے کر رہا ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکا جا سکے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے اور دیگر قانونی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
شرما نے مزید کہا کہ۱۷مارچ۲۰۲۶ سے اب تک۳۴۴۲ معائنے اور چھاپے مارے گئے ہیں، کئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں‘۲۵۲؍اشیاء ضبط کی گئی ہیں جبکہ۲۴۴۳ شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اسٹاک کی نگرانی کی جا رہی ہے، جس میں ایل پی جی بھی شامل ہے۔
شرما نے کہا کہ اس عمل میں ریاستی سطح پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ قریبی تال میل رکھا جا رہا ہے، جبکہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز اور ضلع مجسٹریٹس کی سربراہی میں کمیٹیاں اسٹاک کی نگرانی کر رہی ہیں۔ مختلف محکموں کے افسران کو بھی فیلڈ میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ اچانک معائنے اور سخت کارروائی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مسلسل میڈیا بریفنگز اور عوامی رابطہ مہم چلائی جا رہی ہے۔۱۵سے۲۴ مارچ کے دوران۳۶میڈیا بریفنگز، سوشل میڈیا سرگرمیاں اور زمینی سطح پر عوامی آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔










