اس سال ۲۵ہزار اسامیوں کو پُر کرنے کا بھی اعلان
ایجنسیز
جموں؍۳۱مارچ
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ ان کی حکومت شفاف بھرتی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم غیر ضروری عجلت سے گریز کیا جائے گا تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ کی جانب سے پوچھے گئے ضمنی سوال کے جواب میں عبداللہ نے کہا کہ اس سال۲۵ہزار خالی آسامیوں کو پُر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’بھرتی کا معاملہ اس اجلاس کے دوران تفصیل سے زیر بحث آ چکا ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ عمل شفاف اور مقررہ وقت کے اندر مکمل ہو۔ تاہم مقررہ وقت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جلد بازی میں فیصلے کیے جائیں اور اگلے ہی دن معاملہ عدالت پہنچ جائے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کئی مواقع پر بھرتی کی فہرستوں کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں پورا عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل قانونی تاخیر کے باعث کئی امیدوار عمر کی حد سے تجاوز کر گئے اور روزگار کے مواقع سے محروم رہ گئے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہماری کوشش رہی ہے کہ توازن قائم رکھا جائے، طریقہ کار کی مکمل پابندی کی جائے، شفافیت برقرار رکھی جائے اور عمل کو جتنا جلد ممکن ہو مکمل کیا جائے‘‘۔ اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس سال کم از کم۲۵ہزار آسامیوں کو پُر کیا جائے گا۔
جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، جس کی سربراہی وزیر اعلیٰ کے پاس ہے، کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے مختلف محکموں میں۲۸ہزار سے زائد—زیادہ تر نان گزٹڈ—آسامیاں خالی ہیں۔
ان میں سے۷ہزار سے زائد آسامیوں، جن میں۹۵۹گزٹڈ اور۶۳۴۰ نان گزٹڈ عہدے شامل ہیں، کو سال۲۰۲۵کے دوران بھرتی کے لیے جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن(جے کے پی ایس سی اور جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ(جے کے ایس ایس بی )کے حوالے کیا گیا۔
تقریباً نصف خالی آسامیاں اہم عوامی خدمات کے شعبوں میں مرتکز ہیں، خصوصاً محکمہ صحت و طبی تعلیم، جہاں۱۰ ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں۔ ان میں سے۲۴۹۷ گزٹڈ اور۸۰۸۸ نان گزٹڈ عہدے براہ راست بھرتی کے کوٹے کے تحت آتے ہیں، جبکہ۸۹۸گزٹڈ اور۳۶۰۱نان گزٹڈ آسامیاں ترقیاتی کوٹے کے ذریعے پُر کی جائیں گی۔
اعداد و شمار کے مطابق محکمہ اسکولی تعلیم کو بھی عملے کی کمی کا سامنا ہے، جہاں براہ راست بھرتی کے کوٹے کے تحت۵۹۴گزٹڈ اور۷۲۷ نان گزٹڈ آسامیاں خالی ہیں، جبکہ ترقیاتی کوٹے کے تحت۲۶۸۳گزٹڈ اور۳۵۹۸نان گزٹڈ عہدے خالی ہیں۔
دیگر محکمے جہاں نمایاں عملہ کمی پائی جاتی ہے ان میں محکمہ خزانہ، صنعت و تجارت، جل شکتی، محکمہ توانائی، محکمہ تعمیرات عامہ‘ دیہی ترقی و پنچایتی راج، جنگلات، ماحولیات و ماحولیات، اور محکمہ یوتھ سروسز و اسپورٹس شامل ہیں۔










