بھارت دنیا کو ایک نئی راہ دکھانے کے لیے کھڑا ہے‘ ہم ایک ایسی تہذیب کے وارث ہیں:ایل جی سنہا
ڈی آئی پی آر
جموں؍۳۱مارچ
لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے منگل کے روز اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کی ثقافت اور روحانی وراثت ایک روشن مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔
سنہا نے کہا’’جموں کی سرزمین بھرپور روایات سے مالا مال ہے۔ ڈوگری گیت زندگی کی قدروں کو سمیٹے ہوئے ہیں، دستکاریاں تجربات کی عکاسی کرتی ہیں، اور فن میں عقیدت کی جھلک ہماری زندہ روایات کو نئی روح بخشتی ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر جموں میں شری کیلکھ جیوتش اینڈ ویدک سنستھان ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ’جموں کشمیر کلچرل فیسٹیول‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر اننت شری ویبھوشت جوناپیٹھادھیشور آچاریہ مہامنڈلیشور پوجیاپاد شری سوامی اودھیشانند گری جی مہاراج نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
ایل جی سنہا نے کہا کہ جموں کشمیر کلچرل فیسٹیول کا مقصد بھرپور ثقافتی ورثے کا تحفظ، لوک فنون، روحانی بنیادوں اور روایات کی تجدید اور ہماری شناخت کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’مجھے یقین ہے کہ روایتی مظاہرے ماحول کو رنگ و نغمہ سے زندہ کریں گے، ثقافتی نمائشیں ہماری قیمتی وراثت کو عام کریں گی، اور کسان بیداری پروگرام اس خطے کی روح کو جلا بخشنے والے ہاتھوں کو خراجِ تحسین پیش کریں گے‘‘۔
سنہا نے کہا کہ ابھرتے ہوئے بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم پر مبنی معیشت کو مضبوط کرے اور جدت، ثقافتی اقدار اور فلسفیانہ نظریات کو عالمی سطح پر فروغ دے۔
ایل جی سنہا نے کہا’’اس اہم دور میں جب عالمی کشیدگیاں معاشروں کو تقسیم کر رہی ہیں اور انسانیت امن کی تلاش میں ہے، بھارت دنیا کو ایک نئی راہ دکھانے کے لیے کھڑا ہے۔ ہم ایک ایسی تہذیب کے وارث ہیں جس نے ہزاروں سال پہلے علم، ثقافت اور روحانیت کی روشنی دنیا بھر میں پھیلائی‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دنیا نئے خیالات کی منتظر ہے اور نوجوان اس روایت کے وارث ہیں جو انقلابی سوچ کو جنم دیتی ہے۔انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی جڑوں کی طرف لوٹیں، نئے خیالات اور جدت کو فروغ دیں اور ثقافتی ورثے کو معاشرتی تبدیلی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’اس باہم مربوط دور میں بھائی چارے کے رشتوں کو مضبوط بنائیں اور دنیا بھر میں تصادم کے بجائے ہمدردی کو فروغ دیں‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ فن اور ثقافت میں گہری بصیرت، مقصد اور مہارت ہوتی ہے جو قوم سازی کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں فن، روحانیت، فلسفہ اور اخلاقیات نسلوں کو جوڑنے والے پل ہیں۔
سنہا نے کہا’’یہ جدید تاریخ کا سب سے مشکل دور ہے اور ہم خوش نصیب ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کی قیادت کر رہے ہیں اور ترقی و فلاح کے نئے معیارات قائم کر رہے ہیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے گزشتہ۱۲برسوں میں بھارت کی غیر معمولی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو اجتماعی طور پر اس تبدیلی کو مزید تیز کرنا ہوگا۔ آئندہ دہائیوں میں ہمیں نئی توانائی اور عزم کے ساتھ ایسی ٹیکنالوجیز اور نظام تیار کرنے ہوں گے جو ملکی اور عالمی صنعتوں کو نئی شکل دیں۔
سنہا نے کہا’’بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھارت نے اپنی قدیم عظمت اور اعتماد کو دوبارہ حاصل کیا ہے۔ بھارتی انجینئرز، سائنسدان، صنعت کار اور جدت کار عالمی مکالمے کی رہنمائی کر رہے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ میں اسے ایک نشاۃ ثانیہ سمجھتا ہوں جو بھارت کی شاندار تاریخ کو زندہ کر رہی ہے‘‘۔
جموں کشمیر کلچرل فیسٹیول میں مختلف سرگرمیاں منعقد ہوئیں جن میں ثقافتی نمائش، روایتی لوک مظاہرے، کسان میلہ اور مفت طبی کیمپ شامل تھے۔
اس موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو بھی اعزازات سے نوازا گیا۔
تقریب میں ممبران اسمبلی شری شام لال شرما اور محترمہ دیویانی رانا، شری کیلکھ جیوتش اینڈ ویدک سنستھان ٹرسٹ کے صدر مہنت روہت شاستری، مکل کانتکر، معزز شہریوں اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔اس کے علاوہ شری سریش کمار شرما (رکن شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ)، شری رمیش کمار (ڈویژنل کمشنر جموں) اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔










