یہ جائزہ کمزوریوں کو سمجھنے اور مستقبل میں مزید تفصیلی مطالعات کو ترجیح دینے کے لیے ایک بنیادی بنیاد فراہم کرتا ہے:حکومت
ایجنسیز
جموں؍۳۱مارچ
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ کشمیر ہمالیہ میں کم از کم پانچ گلیشیائی جھیلیں ایسی ہیں جن میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے سیلاب(جی ایک او ایف) کا’انتہائی زیادہ خطرہ‘ پایا جاتا ہے، اگرچہ وہ فوری طور پر غیر مستحکم نہیں ہیں۔
اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ ایک ابتدائی جغرافیائی تجزیہ کیا گیا جس کے ذریعے گلیشیائی جھیلوں سے نیچے واقع علاقوں میں ممکنہ سیلابی خطرات کا جائزہ لیا گیا، جس میں گاندربل، شوپیاں اور کولگام جیسے اضلاع میں آبادیوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کی نشاندہی کی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حال ہی میں کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی اس تحقیق، جو جرنل آف گلیشیالوجی میں شائع ہوئی، میں۱۵۵ گلیشیائی جھیلوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں ہائیڈرو،جیومارفک اشاریوں جیسے جھیل کے پھیلاؤ کی رفتار، بند (ڈیم) کے استحکام اور اردگرد کے حالات کو مدنظر رکھا گیا۔
مطالعے کے مطابق، اگر گلیشیائی جھیل پھٹنے کا واقعہ پیش آئے تو تقریباً۲۷۰۴عمارتیں، لگ بھگ۱۵بڑے پل، سڑکوں کے مختلف حصے اور کم از کم ایک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک شدید نوعیت کا تباہ کن سیلاب ہوتا ہے جو گلیشیائی جھیل کو روکنے والے بند کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اس تحقیق میں برم سر، چر سر، نند کول، گنگا بل اور بھگ سر جھیلوں کو ‘انتہائی زیادہ حساسیت’ کے زمرے میں رکھا گیا ہے‘‘۔ یہ بات انہوں نے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق کے سوال کے جواب میں کہی۔تاہم حکومت نے واضح کیا کہ اس درجہ بندی کا مطلب فوری خطرہ نہیں ہے، بلکہ یہ صرف مخصوص حالات میں جھیل پھٹنے کے زیادہ امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ جائزہ کمزوریوں کو سمجھنے اور مستقبل میں مزید تفصیلی مطالعات کو ترجیح دینے کے لیے ایک بنیادی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
مطالعے میں درست خطرے کے تخمینے میں موجود خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ گلیشیائی جھیلوں کے پانی کے حجم کے بارے میں قابلِ اعتماد ڈیٹا ضروری ہے، جو صرف فیلڈ بیسڈ باتھیمیٹرک پیمائشوں—یعنی پانی کی گہرائی اور ساخت کا تعین—کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس وقت بیشتر ہمالیائی جھیلوں کے لیے ایسا ڈیٹا دستیاب نہیں۔ تاہم محققین نے اس سمت میں کام شروع کر دیا ہے۔
سائنسی تجزیے کو مضبوط بنانے کے لیے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ جیو انفارمیٹکس نے وزارت ارضیاتی علوم کے تعاون سے ایک جدیدآر ٹی کے سے لیس روبوٹک ایکو ساؤنڈنگ کشتی حاصل کی ہے۔
وزیرا علیٰ نے مزید کہا کہ مغربی ہمالیہ میں خطرے سے دوچار گلیشیائی جھیلوں کے باتھیمیٹرک سروے سال۲۰۲۶میں کرنے کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد ہائیڈرو ڈائنامک ماڈلنگ اور زیریں علاقوں میں خطرے کے تجزیے کو بہتر بنانا ہے۔
مطالعے میں نشاندہی کی گئی کہ یہ انتہائی حساس جھیلیں زیریں علاقوں کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں۔
تدارکی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ کمزور جھیلوں کی مسلسل نگرانی ریموٹ سینسنگ اور فیلڈ جائزوں کے ذریعے ترجیحی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی انتباہی نظام زیریں علاقوں کے لیے ایکو زونیشن منصوبے، اور ضلعی سطح کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ فریم ورک میں جی ایل او ایف خطرات کو شامل کرنا مستقبل کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ محققین پہاڑی علاقوں کے لیے مخصوص ابتدائی انتباہی نظام تیار کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں، جس میں سیٹلائٹ نگرانی، فیلڈ مشاہدات، سینسر پر مبنی ہائیڈرو،میٹیورولوجیکل معلومات اور قریب حقیقی وقت میں اطلاعات کی ترسیل کے نظام کو یکجا کیا جائے گا تاکہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور اطلاع ممکن ہو سکے۔










