ایجنسیز
سرینگر؍۳۱مارچ
جموں و کشمیر اپنی پارٹی(جے کے اے پی ) کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے آج سرینگر شہر میں راجباغ کو سنگرمال سے جوڑنے والے فلائی اوور کی منظوری کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طویل عرصے سے زیر التوا اور نہایت ضروری فیصلہ تھا جو شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں بخاری نے کہا’’میں حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم اور ستائش کرتا ہوں کہ اس نے سرینگر میں راجباغ کو سنگرمال سے جوڑنے والے فلائی اوور کی منظوری دی ہے۔ یہ ایک طویل عرصے سے منتظر اور ناگزیر فیصلہ تھا۔ اس کی تکمیل کے بعد یقیناً اس علاقے میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی‘‘۔
بخاری نے اس موقع پر پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو ماضی میں اس اہم منصوبے کو غلط انداز میں سنبھالنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
اپنی پارٹی کے صدر نے کہا’’اسی کے ساتھ یہ یاد کرنا بھی ضروری ہے کہ ماضی میں اس اہم منصوبے کے ساتھ کس طرح غلط برتاؤ کیا گیا۔ اپنے دورِ حکومت میں محبوبہ مفتی نے اپنے مخصوص نادِرشاہی انداز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کی نوعیت ہی بدل دی۔ ماہرین کی رائے اور معقول آوازوں کو نظر انداز کرتے ہوئے انہوں نے منصوبے میں تبدیلی کی اور مجوزہ گاڑیوں کے پل کو پیدل چلنے والوں کے پل میں تبدیل کر دیا، حالانکہ اسے اصل میں گاڑیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور اس کی بنیاد بھی اسی مقصد کے لیے رکھی گئی تھی‘‘۔
بخاری نے بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو سرینگر کے پارمپورہ علاقے میں منتقل کرنے کے فیصلے کو بھی ’احمقانہ‘ اور ’شدید نقصان دہ‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا’’افسوس کی بات ہے کہ اقتدار کے دوران یہ واحد فیصلہ نہیں تھا جس نے سرینگر کے عوام کو مشکلات سے دوچار کیا۔ ایک اور واضح مثال بٹہ مالو جنرل بس اسٹینڈ کو پارمپورہ منتقل کرنا تھا۔ یہ فیصلہ نہایت احمقانہ اور گہرے نقصان کا باعث ثابت ہوا۔ بٹہ مالو، جو کبھی ایک فعال تجارتی مرکز تھا، شدید متاثر ہوا اور ہزاروں تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور مقامی باشندوں کو سنگین مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا‘‘۔
اپنی پارٹی کےسربراہ نے مزید کہا کہ اتھواجن اور پنتھا چوک کے علاقوں میں پتھر نکالنے (اسٹون مائننگ) پر پابندی سے بھی سینکڑوں مزدور خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا، جس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو معاشی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
بخاری نے کہا’’یہ صرف چند مثالیں ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ محبوبہ مفتی کے دورِ حکومت میں فیصلوں میں کمزور بصیرت اور عوامی مفاد سے بے اعتنائی پائی جاتی تھی۔ بغیر کسی لگی لپٹی کے آج میں محبوبہ جی سے کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے دور میں سرینگر کو جو نقصان پہنچا وہ ناقابلِ فراموش ہے‘‘۔
اپنی پارٹی کے صدر نے مزید کہا کہ اس وقت ان کی جماعت کے بعض غیر منتخب نمائندوں نے بھی ان پر اثر انداز ہو کر شہر مخالف رجحانات کو مزید تقویت دی، تاہم حقیقت یہی ہے کہ انہوں نے خود سرینگر اور اس کے عوام کے مفادات کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
بخاری نے کہا’’میرے الفاظ یاد رکھیں:سرینگر کے لوگ نہ اس نقصان کو بھولیں گے اور نہ معاف کریں گے، اور تاریخ بالآخر اس کے نتائج کا فیصلہ کرے گی۔ بہرحال، میں امید کرتا ہوں کہ فلائی اوور کی تعمیر کا کام مزید تاخیر کے بغیر شروع ہوگا تاکہ شہر کے مرکز اور ملحقہ علاقوں میں شدید ٹریفک جام سے عوام کو راحت مل سکے۔‘‘










