سرینگر؍۳۱مارچ
جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں فوج نے منگل کے روز ایک بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسکول ہاسٹل میں پھنسے۳۴؍افراد—جن میں۳۰طلبہ اور۴؍اساتذہ شامل تھے—کو بحفاظت نکال لیا۔
حکام کے مطابق رفیع آباد کے وترگام علاقے میں مسلسل اور تیز بارش کے باعث ایک نالے میں اچانک پانی کی سطح بڑھ گئی، جس سے ایک مقامی اسکول کے ہاسٹل میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی اور طلبہ و اساتذہ اندر محصور ہو کر رہ گئے، جبکہ باہر نکلنے کے تمام راستے بند ہو گئے تھے۔
مقامی لوگوں نے نزدیکی فوجی یونٹ سے مدد طلب کی، جس پر فوج نے فوری انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
حکام نے بتایا کہ مشکل حالات اور تیز بہاؤ کے باوجود ٹیمیں متاثرہ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں اور تمام۳۴؍افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو کے بعد بچوں اور عملے کو طبی امداد اور خوراک بھی فراہم کی گئی۔ اس آپریشن میں پولیس، ضلع انتظامیہ اور مقامی نوجوانوں نے بھی فوج کا ساتھ دیا۔
ادھر ضلع بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر کے تلیل علاقے میں برفانی تودہ گرنے کی اطلاع ملی، تاہم حکام کے مطابق یہ پہاڑی علاقے تک محدود رہا اور کسی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
گزشتہ۴۸گھنٹوں کے دوران وادی کے میدانی علاقوں میں درمیانی درجے کی بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برفباری ریکارڈ کی گئی۔ بارہمولہ میں گزشتہ۲۴گھنٹوں کے دوران۷۰ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی جو وادی میں سب سے زیادہ رہی، جبکہ ہندواڑہ کے نوگام میں۵۸ء۲ملی میٹر، قاضی گنڈ میں۴۸ء۶ملی میٹر اور کولگام میں۴۲ء۲ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ سرینگر شہر میں بھی۳۱ء۶ ملی میٹر بارش ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کے روز موسم ابر آلود رہنے کا امکان ہے، جبکہ ہفتے کے آخر میں ایک اور بارش کا سلسلہ متوقع ہے۔










