واقعہ کو نہایت تشویشناک اور سنگین سیکورٹی کوتاہی قرار دیا گیا
ایجنسیز
جموں؍۲۸مارچ
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اراکین نے ہفتہ کے روز نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
حکومتی اور اپوزیشن بنچوں نے پارٹی خطوط سے بالاتر ہو کر اس واقعے کو نہایت تشویشناک اور ایک سنگین سیکورٹی کوتاہی قرار دیا۔ اراکین نے مطالبہ کیا کہ حملہ آور کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ‘جو سابق وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں‘۱۱مارچ کو ایک معجزانہ طور پر محفوظ رہے جب۶۳ سالہ کمل سنگھ، جو جموں کے پرانی منڈی علاقے کا رہائشی ہے، نے گریٹر کیلاش علاقے میں ایک شادی کی تقریب سے واپسی کے دوران ان پر نزدیک سے فائرنگ کی۔ حملہ آور کو موقع پر ہی قابو میں لے کر ریوالور سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے جو ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) کی نگرانی میں کام کر رہی ہے۔
ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی نیشنل کانفرنس کے متعدد اراکین نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو مطلع کیا کہ انہوں نے اس حملے پر بحث کے لیے التوا کی تحریک پیش کی ہے۔
تاہم اسپیکر نے پہلے وقفہ سوالات کو پرامن طور پر مکمل کرایا اور بعد ازاں اس معاملے پر بحث کی اجازت دے دی۔
اسپیکر نے کہا’’مجھے نیشنل کانفرنس کے کئی اراکین کی جانب سے التوا کی تحریک کا نوٹس موصول ہوا ہے‘اسے ایک گھنٹہ پہلے پیش کیا جانا چاہیے تھا، لیکن چونکہ یہ معاملہ ایوان کے تمام اراکین کے لیے سنجیدہ تشویش کا باعث ہے، اس لیے میں بغیر التوا کی تحریک کے بحث کی اجازت دیتا ہوں‘‘۔
بی جے پی کے رکن سریجیت سنگھ سلاتھیا نے کہا کہ وہ اس بحث کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ایک قدآور سیاسی شخصیت ہیں۔
اس موقع پرپیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نےدعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے انہیں اپنے والد عبدالغنی لون کے جنازے میں شرکت کیلئے سکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا، جنہیں۲۰۰۲ میںدہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔
لون نے کہا کہ انہوں نے اپنے والد کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے سکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے یہ فراہم نہیں کی۔
پیپلز کانفرنس کے رکن اسمبلی نے کہا’’مجھے وہ لمحے یاد ہیں جب میرے والد کو قتل کیا گیا۔ اگلے دن ہمیں انہیں اسی جگہ دفن کرنا پڑا جہاں ان پر حملہ ہوا تھا—مبارک گل صاحب کے حلقے میں، اس مقام سے صرف۱۰۰ فٹ کے فاصلے پر جہاں انہیں گولی ماری گئی۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، میں کوئی سیاسی پوائنٹ اسکور نہیں کرنا چاہتا، لیکن اس حکومت نے مجھے وہاں جانے کیلئے سکیورٹی نہیں دی‘‘۔
لون نے مزید بتایا کہ اس وقت کے کشمیر کے ڈویژنل کمشنر پرویز دیوان نے انہیں خبردار کیا تھا کہ اگر وہ عیدگاہ جنازے میں گئے تو انہیں قتل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، پرویز دیوان نے انہیں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ نشانہ بن سکتے ہیں۔
رکن اسمبلی کے مطابق، انہوں نے اپنی حفاظت کیلئے چند پولیس اہلکاروں کی درخواست کی تھی، لیکن حکومت نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس سے پولیس اہلکاروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
لون نے کہا کہ وہ یہ بات ایک بیٹے کے طور پر کر رہے ہیں اور کشمیر میں ہزاروں ایسے بیٹے ہوں گے جنہوں نے اسی طرح کا کرب جھیلا ہوگا۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے کہا کہ نظریاتی اختلافات کسی فرد کو سکیورٹی سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بننے چاہئیں۔ ’’جب میرے والد شہید ہوئے، اس وقت ڈاکٹر فاروق عبداللہ اقتدار میں تھے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں، وہ بے بس تھے۔ میرے والد انتخابات نہیں لڑ رہے تھے؛ وہ ایک علیحدگی پسند تھے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے نظریاتی اختلافات ہوں تو کیا ہمیں کسی شخص کو سکیورٹی نہ دے کر مرنے دیا جائے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے۔ اور ان کے معاملے میں یہی ہوا۔ سب جانتے تھے کہ انہیں قتل کیا جائے گا—یہ عام گفتگو کا حصہ تھا‘‘۔
لون نے کہا کہ ہر حکومت نے سکیورٹی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا ہے۔’’آج کی حکومت جو کچھ کر رہی ہے، وہی سب پہلے کی حکومتیں بھی کرتی رہی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی کہے کہ ہم نے اس کا غلط استعمال نہیں کیا، تو وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ہر حکومت نے سکیورٹی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا ہے‘‘۔
لون نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے انہیں جموں و کشمیر کی سیاست کی سب سے ’رنگین اور متحرک‘ شخصیات میں سے ایک قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ محض ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک زندہ دل انسان ہیں۔ ’’سیاست سے ہٹ کر، فاروق صاحب ہماری طرف اور پورے ملک کیلئے ایک نہایت متحرک شخصیت رہے ہیں—ہمیشہ ہنستے مسکراتے، خوش مزاج اور بذلہ سنج۔‘‘










