تہران، 23 مارچ (یو این آئی) ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرادیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نےایک بیان میں امریکہ اور اسرائیل کو پیغام دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر دھمکیوں سے ہر گز خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ ٹرمپ کا ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم، پاور پلانٹس تباہ کرنے کی دھمکی عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ اس جنگ کے باعث ہے جس کا آغاز امریکہ اور اسرائیل نے کیا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بحری راستے میں رکاوٹ کی ذمہ داری ایران پر نہیں بلکہ ان ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ نہ کوئی انشورنس کمپنی اور نہ ہی ایران مزید دھمکیوں کی زد میں آئے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور خطرناک صورتحال کے ذمہ دار براہ راست امریکہ اور اسرائیل ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئےکہا تھا کہ ایران نے 48 گھنٹے کے اندر اندر آبنائے ہرمز نہ کھولی تو سخت کارروائی ہوگی۔
ادھر تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
ایک غیر ملکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور غور کیا جا رہا ہے کہ جنگ کے اگلے مرحلے اور ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کس طرح ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اس معاملے پر ابتدائی بات چیت شروع کردی گئی ہے۔ ٹرمپ کے داماد اور ان کے مشیر جیرڈ کوشنر اور مشرقِ وسطی کے لیے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف ممکنہ سفارت کاری میں شامل ہیں۔
ایران پر حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت ختم ہو چکی ہے، تاہم مصر، قطر اور برطانیہ اب بھی دونوں ملکوں میں پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق کسی بھی معاہدے کے تحت جنگ ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران کے بہت زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا معاملہ حل کرنا اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں کے بارے میں طویل مدتی معاہدہ قائم کرنا شامل ہونا ضروری ہوگا۔
امریکہ، ایران سے یورینیم افزودگی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لیے میزائل پروگرام کا خاتمہ بھی چاہتا ہے،جبکہ ایران جنگی نقصانات کا ہرجانہ طلب کر رہا ہے۔ ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے منجمد اثاثے اسے واپس کر دے تو، ایران کا ہرجانے کا مطالبہ پورا ہو سکتا ہے۔








