نئی دہلی، 20 مارچ (یو این آئی) حکومت نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے خطے سے ایل پی جی کی سپلائی کی صورتحال اب بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے، لیکن گھریلو پیداوار 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور گھریلو کھپت کے لیے ملک میں اس وقت کافی ذخائر دستیاب ہیں۔ رسوئی گیس کے لیے ایل پی جی چھوڑ کر پی این جی اپنانے کی حکومتی اپیل کے بعد، ملک کے 15 بڑے علاقوں میں 13,700 سے زائد پی این جی کنکشن دیے گئے ہیں اور 7,500 صارفین نے ایل پی جی چھوڑ کر پی این جی کنکشن لیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ریاستوں کو ان کی ضرورت کی بنیاد پر تقریباً 11,300 ٹن تجارتی ایل پی جی بھی فراہم کی گئی ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف مہم کے تحت ملک بھر میں مختلف مقامات پر 4,500 سے زائد چھاپے مارے گئے ہیں۔ مغربی ایشیا میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً تین لاکھ ہندوستانی وہاں سے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔
وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے جمعہ کو مغربی ایشیا کی صورتحال پر منعقدہ بین وزارتی بریفنگ میں کہا کہ "ملک میں تمام ریفائنریاں اپنی بلند ترین صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔ گھریلو ایل پی جی کی پیداوار 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور وافر اسٹاک دستیاب ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ 13,700 سے زائد پی این جی کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں اور تقریباً 7,500 صارفین ایل پی جی سے پی این جی پر منتقل ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، "جنگ کی وجہ سے ایل پی جی کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ تاہم ایل پی جی سلنڈر کی ترسیل معمول کے مطابق ہے۔ ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کے یہاں کسی قسم کی کمی کی اطلاع نہیں ملی۔ تقریباً 93 فیصد بکنگ آن لائن ہو رہی ہیں۔ سلنڈر کی ترسیل ‘آتھنٹیکیشن کوڈ’ کے ذریعے کی جا رہی ہے اور گھبراہٹ میں کی جانے والی بکنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ کل ہمیں تقریباً 55 لاکھ ری فل بکنگ کی درخواستیں موصول ہوئیں۔” جوائنٹ سکریٹری نے بتایا کہ تجارتی ایل پی جی کے سلسلے میں تقریباً 18 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے الاٹمنٹ آرڈر جاری کیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ریاستوں کو ان کی مانگ کے مطابق تقریباً 11,300 ٹن تجارتی ایل پی جی فراہم کی گئی۔
تمام ریاستوں کو سپلائی دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو اس الاٹمنٹ کا تقریباً 50 فیصد حصہ ملا ہے۔ مٹی کے تیل (کیروسین) کی اضافی الاٹمنٹ کے لیے تقریباً 15 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے آرڈر جاری کیے ہیں۔ عہدیدار نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف مہم جاری ہے اور جمعرات کو ملک بھر میں 4,500 سے زائد چھاپے مارے گئے۔ انہوں نے کہا، "ان میں سے تقریباً 1,100 چھاپے اتر پردیش میں مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو، کیرالہ، جموں و کشمیر، پنجاب، مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش، راجستھان اور دہلی میں بھی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی ٹیموں نے تقریباً 1,800 مقامات پر اچانک معائنہ بھی کیا ہے۔”
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کی پیداوار بڑھی ہے لیکن ہمیں اب بھی اس کی درآمد کی ضرورت ہے۔ مغربی ایشیائی ممالک میں بحران کے پیش نظر دیگر ممالک سے بھی ایل پی جی کی درآمد کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
جاری ۔یواین آئی۔ایف اے










