چیف سیکریٹری کا جے کے پی ایس سی اورجے کے ایس ایس بی کے ذریعے جاری بھرتیوں کی پیش رفت کا جائزہ
۴۰ہزار۶۶۱ اسامیاں خالی‘ ۳۸۰۸ گزیٹیڈ‘۲۴ہزار۵۰۷ نان گزٹیڈ اور۱۲ہزار۳۵۱ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف کی
ڈی آئی پی آر
جموں؍۱۰مارچ
چیف سیکریٹری اتل ڈولو نے آج ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یونین ٹیریٹری کے مختلف محکموں میں خالی اسامیوں کی صورتحال اور جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن(جے کے پی ایس سی)اور جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ(جے کے ایس ایس بی)کے ذریعے جاری بھرتیوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکریٹریز، چیئرپرسن جے کے ایس ایس بی، سیکریٹری جے کے پی ایس سی اور مختلف محکموں کے دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔
جائزہ اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری نے حکمرانی کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اہم خالی اسامیوں کو جلد از جلد پُر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام انتظامی سیکریٹریز کو ہدایت دی کہ وہ اپنے محکموں اور بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ باقاعدہ فالو اپ اجلاس منعقد کریں تاکہ زیر التوا مسائل کو حل کر کے اسامیوں کو جلد پُر کیا جا سکے۔
ڈولو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جاری بھرتی مہمات کے لیے مقررہ ٹائم لائن پر سختی سے عمل کیا جائے اور بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کو موصول ہونے والی تمام اسامیوں کو بلا تاخیر مشتہر کیا جائے۔
چیف سیکریٹری نے بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ امتحانات کا کیلنڈر تیار کر کے بیک وقت شائع کیا جائے تاکہ امیدواروں کو امتحانات کے شیڈول کے بارے میں واضح معلومات حاصل ہوں اور انہیں تیاری کے لیے مناسب وقت مل سکے۔
اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری نے جے کے پی ایس سی اور جے کے ایس ایس بی میں بعض بھرتیوں کو متاثر کرنے والی رکاوٹوں کا بھی نوٹس لیا۔ انہوں نے ہر مسئلے کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ ضروری وضاحتیں جاری کر کے فوری طور پر طریقہ کار کی رکاوٹیں دور کریں تاکہ بھرتی کا عمل تاخیر کا شکار نہ ہو۔
ڈولو نے کہا کہ طویل بھرتی عمل اکثر ملازمت کے خواہشمند امیدواروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ بھرتی ایک مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک واضح اور متوقع بھرتی نظام امیدواروں کو اپنے کیریئر کی بہتر منصوبہ بندی میں مدد دے گا اور ان کی بے چینی میں بھی کمی آئے گی۔
اجلاس میں کمشنر سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ(جی اے ڈی) ایم راجو نے سرکاری محکموں میں خالی اسامیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق مختلف محکموں میں اس وقت کل۴۰ہزار۶۶۱ اسامیاں خالی ہیں، جن میں۳۸۰۸ گزیٹیڈ‘۲۴ہزار۵۰۷ نان گزٹیڈ اور۱۲ہزار۳۵۱ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف کی اسامیاں شامل ہیں۔
اہم محکموں میں ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں سب سے زیادہ اسامیاں خالی ہیں جن میں۲۴۹۷ گزیٹیڈ‘۸۰۸۸ نان گزیٹیڈ اور۲۷۱۲؍ایم ٹی ایس کی آسامیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایگریکلچر پروڈکشن، پاور ڈیولپمنٹ، فنانس، ریونیو، فاریسٹ، پبلک ورکس (آر اینڈ بی) اور یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس کے محکموں میں بھی بڑی تعداد میں اسامیاں خالی ہیں۔
نان گزٹیڈ اور ایم ٹی ایس اسامیوں کے لیے جے کے ایس ایس بی کی جانب سے جاری بھرتی عمل کا جائزہ لیتے ہوئے چیئرپرسن ایس ایس بی وکاس کندل نے بتایا کہ۲۰۱۹سے اب تک بورڈ کو۴۶ہزار۷۴۴ اسامیاں موصول ہوئیں، جن میں سے۹۲۶۰ واپس لے لی گئیں جبکہ۳۷ہزار۴۸۴اسامیاں بھرتی کے لیے باقی رہ گئیں۔ بورڈ اب تک۳۲ہزار۹۵۶ اسامیوں پر تقرریاں مکمل کر چکا ہے، جن میں۲۷ہزار۴۴۹تقرریاں اسی مدت سے متعلق ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت۱۰ہزار۳۵اسامیاں مختلف مراحل میں زیرِ عمل ہیں، جن میں۲۵۳۲اسامیاں ابھی مشتہر ہونا باقی ہیں‘۴۷۶۸؍امتحانی مرحلے میں ہیں‘۱۲۵۸ انتخابی مرحلے میں ہیں اور۱۴۷۷؍آسامیاں جاری اشتہارات کے تحت ہیں۔
ادھر سیکریٹری پبلک سروس کمیشن بشیر احمد ڈار نے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت کمیشن کے پاس۱۷۴۵گزیٹیڈ آسامیاں بھرتی کے عمل میں ہیں۔ ان میں سے۱۵۷۳اسامیوں کے لیے انتخابی شیڈول تیار کیا جا چکا ہے جبکہ۱۷۲اسامیاں بعض طریقہ کار کے مسائل کے باعث ابھی شیڈول میں شامل نہیں کی جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے کمیشن نے ایک ٹائم لائن بھی تیار کی ہے جس کے مطابق مارچ۲۰۲۶تک۶۳۰تقرریاں، اپریل تا مئی ۲۰۲۶ کے دوران۴۷۶‘ جون تا جولائی۲۰۲۶ کے دوران۱۵۸؍اور اگست تا ستمبر۲۰۲۶ کے دوران۳۰۹ تقرریاں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
محکمہ وار تجزیے کے مطابق پبلک سروس کمیشن کے پاس سب سے زیادہ آسامیاں ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن(۸۷۲)سے متعلق ہیں، اس کے بعد اسکول ایجوکیشن(۴۷۰)، جنرل ایڈمنسٹریشن(۱۷۰)اور ہائر ایجوکیشن(۱۲۹) شامل ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ تمام محکموں نے مشتہر شدہ اسامیوں، خالی عہدوں اور بھرتی ایجنسیوں کو بھیجے جانے والے عہدوں کی تازہ ترین صورتحال فراہم کر دی ہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جن آسامیوں پر کوئی قانونی یا طریقہ کار کی رکاوٹ نہیں ہے انہیں بروقت بھرتی کے لیے جلد از جلد متعلقہ بھرتی ایجنسیوں کے حوالے کیا جائے گا










