۱۸ لاکھ ٹیولپ بلب لگائے گئے ہیں، جن میں۷۰ سے۷۵ مختلف اقسام شامل ہیں‘ پھولوں کی کیاریاں پہلے سے زیادہ دلکش
(یو این آئی)
سری نگر؍۱۰مارچ
ایشیا کے سب سے بڑے ٹیولپ باغ، اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن سری نگر کو سال۲۰۲۶کے سیزن کے لیے۱۶مارچ کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا، حکام نے منگل کو یہ اطلاع دی۔
ڈائریکٹر فلوریکلچر کشمیر، متھورا معصوم نے بتایا کہ زبرون پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع یہ باغ، جہاں سے ڈل جھیل کا خوبصورت منظر دکھائی دیتا ہے، سیاحوں کے استقبال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ باغ میں ٹیولپس کے سالانہ کھلنے کو روایتی طور پر وادی میں سیاحتی سیزن کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ڈائریکٹر معصوم نے کہا’’چونکہ اب ٹیولپس پوری طرح کھل چکے ہیں، اس لیے محکمہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سیزن کے لیے باغ کو۱۶مارچ سے سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے‘‘۔
حکام کے مطابق اس سیزن میں تقریباً۱۸ لاکھ ٹیولپ بلب لگائے گئے ہیں، جن میں۷۰ سے۷۵ مختلف اقسام شامل ہیں۔
اس سال پھولوں کی کیاریوں کی گنجائش اور ترتیب کو مزید بڑھایا گیا ہے تاکہ آنے والے سیاحوں کے لیے ایک زیادہ دلکش اور رنگا رنگ منظر پیش کیا جا سکے۔
باغ زبرون پہاڑی سلسلہ کے دامن میں واقع ہے اور سامنے سے ڈل جھیل کا شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔ اس حسین امتزاج کی وجہ سے یہ باغ ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور سری نگر کی سیاحت کو نئی جان بخشتا ہے۔
حکام کے مطابق اس بار تقریباً اٹھارہ لاکھ گلِ لالہ کے پودے لگائے گئے ہیں، جن میں ستر سے پچھتر اقسام شامل ہیں۔ پھولوں کی کیاریوں کی گھناوٹ بھی بڑھائی گئی ہے تاکہ آنے والے سیاحوں کو زیادہ دلکش اور رنگا رنگ نظارہ دیکھنے کو ملے۔ ہر لائن میں رنگوں کی ترتیب، پھولوں کی اونچائی، اور قطاروں کا ڈیزائن اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ باغ میں داخل ہوتے ہی ہر قدم پر منظر بدلتا محسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا’اس سال ہم نے پھولوں کی کیاریوں کو پہلے سے زیادہ دلکش اور بھرپور انداز میں تیار کیا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ سیاح جب بھی باغ میں داخل ہوں، انہیں رنگوں کا ایک ایسا سمندر نظر آئے جس سے وہ دیر تک مسحور رہیں۔‘
باغ کے کھلنے کی خبر نے وادی کے شہریوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ سری نگر کے رہائشی محمد طارق نے کہا:’ٹیولپ گارڈن صرف ایک باغ نہیں، یہ کشمیر کی بہار کا اعلان ہے۔ ہم ہر سال اپنے بچوں کے ساتھ یہاں آتے ہیں۔ اس بار بھی بےچینی سے انتظار ہے۔‘
ایک اور شہری، نادیہ جاوید، نے مسکراتے ہوئے کہا:’یہ باغ ہمارے لئے ایک تہوار جیسا ہے۔ جب یہ کھلتا ہے تو لگتا ہے جیسے کشمیر دوبارہ سانس لے رہا ہے۔ ہم ہر سال نئے رنگ دیکھتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ دنیا میں ایسا مقام اور کہیں ہوگا بھی یا نہیں‘۔
سیاحتی کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق باغ کے کھلنے کے ساتھ ہی وادی کے ہوٹل، ٹیکسی سروسز اور مقامی بازاروں میں بھی رونق بڑھ جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی باغ کی صفائی، سکیورٹی، ٹکٹ کاؤنٹروں، پارکنگ، روشنی اور سیاحوں کی رہنمائی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ محکمے کے مطابق توقع ہے کہ اس سال سیاحوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگی۔
کشمیر کی بہار کی پہچان بن چکا یہ باغ۱۶مارچ سے ایک بار پھر دنیا کو اپنے رنگوں کے جادو میں جکڑنے جا رہا ہے، اور وادی کے لوگ پُرامید ہیں کہ یہ موسم اس سال بھی کشمیر کی خوبصورتی کا پیغام دنیا بھر تک پہنچائے گا۔










