ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی صورت حال پر قریبی نظر‘وفر ذخیرہ موجود
تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں فی الحال اضافی لاگت کا بوجھ خود برداشت کریں گی:سرکاری ذرائع
(ایجنسیز)
نئی دہلی؍۹مارچ
بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمت۱۰۰ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے باوجود فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع نے پیر کو بتایا کہ حکومت ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے صورت حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ دسویں دن میں داخل ہونے کے ساتھ ہی عالمی منڈیاں متاثر ہوئی ہیں اور برینٹ خام تیل، جو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے، تقریباً۱۲۰ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو جنگ کے آغاز کے وقت کے مقابلے میں تقریباً۶۵فیصد زیادہ ہے، تاہم بعد میں اس میں کچھ کمی بھی دیکھی گئی۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت عالمی تیل منڈیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے لیکن فوری طور پر خوردہ سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں فی الحال اضافی لاگت کا بوجھ خود برداشت کریں گی۔
ذرائع کے مطابق ملک میں خام تیل اور تیار شدہ ایندھن دونوں کا اتنا ذخیرہ موجود ہے جو اگلے۶سے۸ ہفتوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ تاہم حکومت نے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کے قواعد میں تبدیلی کی ہے۔
گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی دوبارہ بکنگ کے لیے کم از کم وقفہ۲۱دن سے بڑھا کر۲۵دن کر دیا گیا ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی کو روکا جا سکے اور سلنڈروں کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ عام طور پر ایک گھر سالانہ۱۴ء۲کلوگرام کے تقریباً۷سے۸؍ایل پی جی سلنڈر استعمال کرتا ہے اور عام حالات میں چھ ہفتوں سے پہلے نئے سلنڈر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اسی لیے بکنگ کے وقفے میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مصنوعی قلت پیدا ہونے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کا بھی وافر ذخیرہ موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت عالمی توانائی کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی۲۸فروری کو اس وقت بڑھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے بعد تہران کی جانب سے جوابی کارروائیاں ہوئیں۔ اس تنازعے کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
یہ تنگ بحری راستہ بھارت کی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ ملک کی تقریباً۴۰سے۵۰ فیصد خام تیل کی درآمدات اور تقریباً۸۵سے۹۰فیصد ایل پی جی سپلائی خلیجی ممالک سے اسی راستے کے ذریعے آتی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ اگرچہ خام تیل دیگر متبادل ذرائع جیسے روس سے حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم ایل پی جی کی متبادل سپلائی کا بندوبست کرنا نسبتاً زیادہ وقت طلب ہے کیونکہ اس کے بڑے متبادل ذرائع امریکہ اور کینیڈا میں موجود ہیں۔
بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومت نے ریفائنریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایل پی جی کی پیداوار زیادہ سے زیادہ کریں اور اس کے کسی حصے کو پیٹروکیمیکل مصنوعات بنانے کے لیے استعمال نہ کریں۔
پیٹرول اور ڈیزل کے حوالے سے صورتحال کو ذرائع نے ’’بہت تسلی بخش‘‘ قرار دیا ہے۔ایک ذریعے نے کہا، ’’ملک کا ہر پیٹرول پمپ کام کر رہا ہے، گھروں کو فراہم کی جانے والی پائپڈ نیچرل گیس کی سپلائی جاری ہے اور ہر سی این جی اسٹیشن کھلا ہے۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
بھارت اپنی خام تیل کی ضرورت کا تقریباً۸۸ فیصد درآمد کرتا ہے، جسے ریفائنریوں میں پیٹرول اور ڈیزل جیسے ایندھن میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ عالمی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق فی الحال خوردہ قیمتوں میں اضافہ متوقع نہیں ہے کیونکہ حکومت ایک متوازن پالیسی پر عمل کر رہی ہے جس کے تحت عالمی قیمتیں کم ہونے پر کمپنیوں کو منافع کمانے کا موقع دیا جاتا ہے اور قیمتیں بڑھنے کی صورت میں صارفین کو ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔
بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اپریل۲۰۲۲سے منجمد ہیں۔ اس دوران انڈین آئل کارپوریشن‘ بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ ‘ اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ جیسی کمپنیاں عالمی قیمتیں بڑھنے پر نقصان برداشت کرتی ہیں اور قیمتیں کم ہونے پر منافع حاصل کرتی ہیں۔
اس پالیسی کے باعث عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے کے باوجود بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم رہیں، جبکہ عالمی سطح پر قیمتیں کم ہونے کے باوجود یہاں قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی۔ذرائع نے کہا کہ حکومت صارفین کو مہنگائی سے بچانے کی پالیسی جاری رکھنا چاہتی ہے اور جب تک خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ نہیں ہوتا، یہی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔
بھارت اپنی خام تیل کی ضرورت کا تقریباً۸۸ فیصد اور قدرتی گیس کی تقریباً نصف ضرورت درآمد کرتا ہے، جن میں سے زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز کے ذریعے آتی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت متبادل ایل پی جی اور گیس سپلائی کی تلاش کے ساتھ مختلف شعبوں کے لیے سپلائی کے نظام میں کچھ تبدیلیاں بھی کر رہی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی سرکاری، فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے جہاز رانی کو آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی وارننگ دی جبکہ بیمہ کمپنیوں نے بھی کوریج واپس لے لی، جس کے نتیجے میں ٹینکرز کی نقل و حرکت تقریباً رک گئی۔
ایک ذریعے نے کہا، ’’تیل کمپنیوں کے پاس اتنا مالی گنجائش موجود ہے کہ وہ قیمتوں میں اس طرح کے اضافے کو برداشت کر سکتی ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’جون۲۰۲۲ میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد خام تیل کی قیمت۱۱۹ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ اس سال کمپنیوں نے معمولی منافع کمایا تھا، لیکن مالی سال۲۰۲۴میں انہوں نے ریکارڈ۸۱ہزار کروڑ روپے کا منافع حاصل کیا۔‘‘
ذرائع کے مطابق اس سال بھی تینوں بڑی کمپنیوں نے دسمبر سہ ماہی میں ہی۲۳ہزار۷۴۳کروڑ روپے کا منافع درج کیا ہے۔ (ایجنسیاں










