نئی دہلی، 2 مارچ (یو این آئی) نیتی آیوگ کی جانب سے کاشتکاری کے قدرتی طریقہ کار سے متعلق دو روزہ قومی ورکشاپ کے دوران کیمیکل سے پاک زراعت کے بارے میں ایک گائیڈ بک جاری کی گئی ہے۔
نیتی آیوگ کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، اس ورکشاپ کا انعقاد نیتی آیوگ کے ’اسٹیٹ سپورٹ مشن‘ (ایس ایس ایم) کے تحت کیا گیا تھا۔ اس میں مختلف ریاستوں کے کسانوں، پالیسی سازوں، سائنسدانوں، زرعی شعبے سے وابستہ اسٹارٹ اپس اور سماجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
پروگرام کی اہم کامیابیوں میں کھیتی کے قدرتی طریقہ کار پر تربیتی کتابچہ کا اجرا بھی شامل تھا، جس کا عنوان ’’امپاورمنٹ: نیچرل فارمنگ ٹریننگ اینڈ بیسٹ پریکٹس گائیڈ‘‘ ہے۔
اس تقریب سے گجرات کے گورنر اور کھیتی کے قدرتی طریقہ کارکے ماہر آچاریہ دیوورت نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کیا اور مٹی کے معیارکو بہتر بنانے میں کھیتی کے قدرتی طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیا۔ ورکشاپ میں جوناگڑھ ایگریکلچرل یونیورسٹی، ڈاکٹر وائی ایس پرمار ہارٹی کلچر اینڈ فاریسٹری یونیورسٹی اور گجرات نیچرل ایگریکلچر سائنس یونیورسٹی جیسے کئی تحقیقی اداروں نے بھی حصہ لیا۔
ورکشاپ میں پنجاب، راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات، مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا پردیش، کیرالہ اور اڈیشہ کے کسانوں، محکمہ زراعت کے افسران اور کرشی وگیان کیندروں سے وابستہ سائنسدانوں نے شرکت کی۔ یہ ملک بھر میں قدرتی کھیتی کے طریقوں کے تئیں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
پروگرام میں ایپیڈا اور نابارڈ جیسی تنظیموں، مرکزی حکومت کے محکمہ تعاون، محکمۂ حیوانات و ڈیری، وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے نمائندوں نے قدرتی کھیتی کے فوائد، سرٹیفیکیشن، مارکیٹنگ کی سہولیات اور ادارہ جاتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔










