ویسے بھی اپنے اس شہر خستہ سرینگر کے کیا کم دشمن تھے جو ایک اور نے جنم لیا ہے ؟شہر خستہ کے یہ دشمن ٹنل کے اُس پار بھی ہیں‘زیادہ وہیں جبکہ اب اس پار بھی اس کے دشمنوں نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے ۔کیوں کردیا ہے صاحب یہ تو ہم نہیں جانتے ہیں …….بالکل بھی نہیں جانتے ہیں کہ اگر ہم کچھ جانتے ہیں تو یہ ایک بات جانتے اور مانتے ہیں کہ اپنے اس شہر خستہ کے کئی ایک دشمن ہیں ……. جو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے رہتے ہیں ۔ایک صاحب ہیں …….پہلے یہ صاحب‘صاحب نہیں تھے ‘ لیکن جب سے انہوں نے الیکشن …….بڈگام کا ضمنی اسمبلی الیکشن جیت لیا ہے تب سے تو یہ صاحب ہو گئے ہیں ……. اور ان صاحب کو اعتراض ہے ‘ اس بات پر اعتراض ہے کہ یہاں کے ہوائی اڈے کو ’سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈہ‘ کیوں کہا جاتا ہے جبکہ یہ بڈگام ضلع کے حدود و قیود میں آتا ہے ۔اس لئے ان صاحب کو اس بات پر اعتراض ہے ۔یہ صاحب کہتے ہیں …….ان کا فرمانا ہے کہ ہوائی اڈے کا اصلی نام سرینگر بین الاقومی ہوائی اڈہ نہیں بلکہ شیخ العالم بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے …….ہم ان کی اس ایک بات سے اتفاق کرتے ہیں اور سو فیصد کرتے ہیں …….یقیناً ان کی یہ بات سرینگر دشمنی کے زمرے میں نہیں آتی ہے ……. بالکل بھی نہیں آتی ‘ لیکن جب یہ صاحب یہ کہتے ہیں کہ یہ اڈہ کیسے سرینگر ہوائی اڈہ ہو سکتا ہے جب کہ اسے درکار تمام خد مات ضلع بڈگام فراہم کررہا ہے تو ……. تو صاحب تب جاکے ان کی سرینگر دشمنی عیاں و بیاں ہو جاتی ہے ۔ہمیں بڈگام سے کوئی بیر نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے ‘لیکن ……. لیکن اس بات سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کشمیر کی شناخت‘اس کی پہچان سرینگر سے زیادہ ہے …….کم از کم بڈگام کے مقابلے میں سرینگر سے زیادہ اور …….یہ بھی سچ ہے کہ جس مقام پر ہوائی اڈہ موجود ہے وہ علاقہ بڈگام سے زیادہ سرینگر کا حصہ معلوم ہو تا ہے …….اور سو فیصد ہو تا ہے ۔اور ہاں ویسے بھی اگر اسے سرینگر ہوائی اڈہ کہا جائے تو اس سے یا فرق پڑتا ہے ؟ صاحب اس سے آپ کے ضلع کی شان و شوکت ‘ اس کا وقار ‘ اس کی اہمیت اور افادیت کم نہیں ہو تی ہے……. بالکل بھی نہیں ہو تی ہے ۔ اس لئے صاحب سرینگر ہوائی اڈے کو سرینگر ہوائی اڈہ ہی رہنے دیجئے اور …….اور آپ ان باتوں اور مسائل پر دھیان دیجئے جن کیلئے لوگوں نے آپ کو چنا ہے ‘ منتخب کیا ہے ۔ ہے نا؟




