سرینگر: قائدِ حزبِ اختلاف اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنيل شرما نے ہفتہ کو برسرِ اقتدار نیشنل کانفرنس (این سی) پر جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے روزگار کے معاملے میں دوہرا معیار اپنایا ہے اور طرزِ حکمرانی میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔
سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں بی جے پی کے میگا جوائننگ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ این سی نے۲۰۲۴کے اسمبلی انتخابات کے دوران دفعہ۳۷۰کی بحالی کا وعدہ کر کے ووٹروں کو گمراہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دفعہ۳۷۰’’تاریخ کا حصہ‘‘ بن چکی ہے اور اس کی واپسی ممکن نہیں۔
شرما نے ’’خصوصی درجہ‘‘ کے بار بار ذکر پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس انداز میں اسے پیش کیا جاتا ہے، اس کی کوئی آئینی بنیاد نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسمبلی میں حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے دعوؤں کو ثابت کرے۔
عبداللہ خاندان پر دوہرے معیار کا الزام لگاتے ہوئے شرما نے کہا کہ ایک طرف این سی قائدین عوامی سطح پر بی جے پی پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ماضی میں سیاسی مفادات کے لیے اسی جماعت کے ساتھ اتحاد کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان تضادات پر سوال اٹھائیں۔
شرما نے این سی کی سابقہ حکمرانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خودمختاری سے متعلق قراردادوں اور مالی پیکجوں کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
روزگار کے مسئلے پر انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے تقریباً۲۴ہزار اسامیاں شفاف بھرتی عمل کے ذریعے پُر کرنے کے بجائے آؤٹ سورس کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اسامیاں ایک نجی کمپنی کے سپرد کی گئیں اور نہ کوئی کھلا اشتہار جاری ہوا، نہ تحریری امتحان یا انٹرویو لیا گیا، جس سے مستحق نوجوان محروم ہو گئے۔
شرما نے کہا، ’’غریب والدین اپنے بچوں کو سرکاری نوکری کی امید پر تعلیم دلواتے ہیں۔ بھرتی کے عمل کو نظرانداز کرنا۲۴ہزار نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا۔
بی جے پی لیڈر نے مطالبہ کیا کہ حکومت متعلقہ کمپنی اور بھرتی کے طریقہ کار کی تفصیلات منظرِ عام پر لائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس معاملے کو اسمبلی کے اندر اور باہر دونوں جگہ اٹھائے گی۔
شرما نے۲۰۰یونٹ مفت بجلی کے وعدے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ حکومت اس فائدے کو مرکزی اسکیموں سے منسوب کر کے اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بی جے پی لیڈر نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ وہ زمینی سطح پر مبینہ غلط معلومات کا مقابلہ کریں اور یقین دلایا کہ بی جے پی گورننس، روزگار اور شفافیت سے متعلق معاملات اٹھاتی رہے گی۔
پروگرام کے دوران متعدد سیاسی کارکنوں نے سینئر قیادت کی موجودگی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔










