بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

رمضان میں مہنگائی عروج پر:اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بلند ترین سطح پر 

 ’مقدس ماہ میں تو حکومت کو قیمتوں پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات کرنے چاہیے تھے، مگرالٹا قیمتیں بڑھ گئی ہیں‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-22
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
رمضان میں مہنگائی عروج پر:اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بلند ترین سطح پر 
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

سرینگر: رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جب پوری وادی کشمیر میں روحانیت، عبادت اور خیرات کا ماحول ہوتا ہے، وہیں اشیائے ضروریہ کی بے تحاشا قیمتوں نے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔
مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ غریب اور متوسط طبقہ اپنے گھریلو بجٹ میں توازن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، متعلقہ محکموں کی غفلت اور نگرانی کے فقدان کا براہِ راست نتیجہ ہے، جس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑ رہا ہے۔
رمضان کے آغاز سے ہی سبزیوں، میوہ جات، پھلوں اور بالخصوص کھجور کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ چند روز قبل تک سنگترے کا ایک درجن۱۰۰ روپے میں مل رہا تھا لیکن اب اسی مقدار کو۲۰۰ روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ صرف یہی نہیں، انگور کی قیمتیں عام شہریوں کے ہوش اُڑا رہی ہیں، جو۴۰۰؍روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ صرف بیانات تک محدود ہے، عملی طور پر گراؤنڈ پر کوئی اقدام نظر نہیں آ رہا۔
نوہٹہ کے رہائشی محمد ساجد نے یو این آئی کو بتایا، ’رمضان میں تو حکومت کو قیمتوں پر قابو پانے کے لیے زیادہ سخت اقدامات کرنے چاہیے تھے، مگرالٹا قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ہم نے رمضان کی خریداری مشکل سے مکمل کی ہے، روزانہ کسی نہ کسی چیز کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔‘
دوسری جانب دکاندار بھی مختلف وجوہات کا سہارا لے کر قیمتیں بڑھانے کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ چرارِ شریف کے ایک سبزی فروش فیاض احمد نے بتایا، ’ہمارے اوپر بھی تھوک بازار کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ٹرانسپورٹ کرایہ بڑھا ہے، مال کی سپلائی کم ہے اور اوپر سے رمضان کی وجہ سے ڈیمانڈ زیادہ ہے، اس لئے ریٹ بڑھانا پڑ رہا ہے۔ دکان دار تو صرف وہی بیچ سکتا ہے جس قیمت پر وہ خرید کر لاتا ہے۔‘
اگرچہ دکاندار اپنی مجبوریوں کا رونا رو رہے ہیں، لیکن صارفین کا مؤقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ گوجوارہ کی رہائشی رفعت جان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا، ’یہ سب بہانے بازی ہے۔
رمضان میں ہر سال یہی ہوتا ہے۔ حکومت صرف چھاپوں کی بات کرتی ہے لیکن نہ چھاپے پڑتے ہیں نہ ہی کوئی کارروائی ہوتی ہے۔ سبزی، پھل، کھجور—سب کی قیمتیں ڈبل ہو گئی ہیں۔ اگر یہ رمضان نہیں تو پھر کب حکومت ریٹ کنٹرول کرے گی؟‘
بازاروں کا رخ کیا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے۔ سبزی فروش جہاں ٹماٹر، پیاز، بینگن اور بندگوبھی جیسے روزمرہ استعمال کی چیزوں پر من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں، وہیں میوہ فروش سیب، کیلا اور انگور جیسے پھلوں پر ’رمضان اسپیشل ریٹ‘ کے نام پر حد سے زیادہ قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری ریٹ لسٹیں صرف فائلوں میں نظر آتی ہیں، جبکہ بازاروں میں اس کا کہیں نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔
لال چوک میں قائم ایک معروف فروٹ شاپ کے مالک ندیم بٹ نے یہ موقف پیش کیا کہ، ’ہم پر بار بار الزام لگانا ٹھیک نہیں۔ اصل مسئلہ سپلائی چین میں ہے۔ مال کم آرہا ہے، باہر سے جو ٹرک آتے ہیں ان کے کرائے بڑھ گئے ہیں۔ ہم خود بھی مجبور ہیں۔ لیکن صحیح ہے کہ کچھ دکاندار ناجائز منافع خوری کرتے ہیں، جس سے عام لوگوں میں اشتعال بڑھ رہا ہے۔‘
ادھر محکمہ امورِ صارفین کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ افسران صرف اعلانیہ دوروں اور بیانات تک محدود رہتے ہیں۔ رمضان میں قیمتوں پر قابو پانے کی خصوصی مہم شروع کرنے کا دعویٰ بھی کاغذوں میں دب کر رہ جاتا ہے۔ پچھلے دنوں چند دکانوں پر جرمانے ضرور لگائے گئے، لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات محض دکھاوا ہیں اور وقتی میڈیا ہائپ کے لئے کئے جاتے ہیں۔
حیدرپورہ کے ایک بزرگ شہری عبدالغفور وانی نے کہا، ’ہم نے اپنی زندگی میں مہنگائی کے کئی دور دیکھے ہیں، مگر رمضان کے مہینے میں ایسی لاقانونیت کبھی نہیں دیکھی۔ انتظامیہ نے اگر سختی نہیں کی تو آئندہ ہفتوں میں حالات مزید بدتر ہو جائیں گے۔‘
رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جس میں حکومتیں دنیا بھر میں عوامی سہولیات بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن کشمیر میں اس کے برعکس صورتحال ہے جہاں مہنگائی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ متعلقہ محکمے یا تو بے بس ہیں یا پھر معاملات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سپیشل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو روزانہ بازاروں کی نگرانی کرے، ریٹ لسٹوں کو سختی سے نافذ کرے اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔
خواتین صارفین کی ایک بڑی تعداد، جو گھریلو بجٹ کی براہ راست ذمہ دار ہیں، سب سے زیادہ پریشان دکھائی دے رہی ہے۔ بٹہ مالو کی سمیرا خان نے کہا، ’ایک طرف رمضان کے اخراجات، دوسری طرف بچوں کے اسکول کے خرچے۔ ایسے میں سبزی دوگنی، پھل ڈھائی گنا اور کھجور تین گنا قیمت پر مل رہا ہے، آخر کب تک غریب عوام برداشت کریں گے؟‘
ان تمام تر صورتحال کے باوجود سرکار دعویٰ کر رہی ہیں کہ ریٹ کنٹرول سیل سرگرم ہے اور بازاروں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس کہانی بیان کرتی ہے، جہاں عام لوگ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں، جبکہ ذمہ دار محکمے تاحال خوابِ غفلت میں دکھائی دے رہے ہیں۔
عوامی حلقے اس بات پر بھی شدید برہم ہیں کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں ناجائز منافع خوری کو روکنے کے لئے کوئی جامع لائحہ عمل موجود نہیں۔ اگر فوری اور سخت کارروائی نہیں کی گئی تو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اشیائے خوردنی کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی، جس سے عام لوگوں کی مشکلات کئی گنا بڑھ جائیں گی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ایل جی سنہا نے شانت منو سے ریاستی الیکشن کمشنر کاحلف لیا

Next Post

’عمرعبداللہ حکومت نے ۲۴ہزار نوکریاں آؤٹ سورس کیں ‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج
اہم ترین

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

2026-07-21
جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری
اہم ترین

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

2026-07-21
 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب
اہم ترین

 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب

2026-07-21
جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی
اہم ترین

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

2026-07-21
 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر
اہم ترین

 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر

2026-07-21
 موجودہ شکل میں سندھ   طاس معاہدہ دوبارہ نافذ   نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع
اہم ترین

 موجودہ شکل میں سندھ  طاس معاہدہ دوبارہ نافذ  نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع

2026-07-21
چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا  نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے
اہم ترین

چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے

2026-07-21
سے ۵۱اگست تک جموں صوبے میں شدید بارشوں کا امکان خراب موسم کے باعث پونچھ میں دوسرے روز بھی اسکول بند رہے
اہم ترین

 شدید بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے خدشات کے باعث بجلی کے کھمبوں، تاروں اور  ٹرانسفارمروںسے دور رہنے کی اپیل 

2026-07-21
Next Post
’عمرعبداللہ حکومت نے ۲۴ہزار نوکریاں آؤٹ سورس کیں ‘

’عمرعبداللہ حکومت نے ۲۴ہزار نوکریاں آؤٹ سورس کیں ‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.