جموں: جموں و کشمیر میں خصوصی طبی تعلیم کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) جموں، جی ایم سی سری نگر اور شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) صورہ کیلئے۲۴نئی سپر اسپیشلٹی پوسٹ گریجویٹ (پی جی) نشستوں کی منظوری دے دی ہے۔
یہ نشستیں کارڈیالوجی، یورولوجی، پلمونری میڈیسن، میڈیکل گیسٹرو اینٹرولوجی، پیڈیاٹرک سرجری، نیورو اینستھیزیا، پیڈیاٹرک و نیونیٹل اینستھیزیا اور کلینیکل امیونولوجی و ریمیٹولوجی جیسے شعبوں میں منظور کی گئی ہیں۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق این ایم سی نے جی ایم سی جموں کے لیے ڈی ایم کارڈیالوجی کی چار اور ایم سی ایچ یورولوجی کی چار نشستوں کی منظوری دی ہے۔ جی ایم سی سری نگر کے لیے ڈی ایم پلمونری میڈیسن، ڈی ایم کارڈیالوجی، ڈی ایم میڈیکل گیسٹرو اینٹرولوجی، ایم سی ایچ یورولوجی اور ایم سی ایچ پیڈیاٹرک سرجری کی دو، دو نشستیں منظور کی گئی ہیں۔ جبکہ اسکمز سری نگر کے لیے ڈی ایم نیورو اینستھیزیا، ڈی ایم پیڈیاٹرک و نیونیٹل اینستھیزیا اور ڈی ایم کلینیکل امیونولوجی و ریمیٹولوجی کی دو، دو نشستوں کی منظوری دی گئی ہے۔
وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت جموں و کشمیر میں خصوصی صحت ڈھانچے اور طبی تعلیم کے مواقع کو وسعت دی جا رہی ہے۔
ایتو نے کہا کہ یہ کامیابی عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی جانب سے صحت کے معیار کو بہتر بنانے اور جموں و کشمیر کے اندر جدید و خصوصی طبی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سپر اسپیشلٹی پی جی نشستوں میں اضافہ نہ صرف نوجوان ڈاکٹروں کو مقامی سطح پر اعلیٰ تربیت کے مواقع فراہم کرے گا بلکہ مریضوں کو بھی خصوصی علاج تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔
وزیر صحت نے مزید کہا کہ سپر اسپیشلٹی نشستوں میں یہ توسیع صحت کے مجموعی نظام کو مضبوط بنانے، مریضوں کو بیرونِ ریاست ریفر کرنے کی ضرورت کم کرنے اور بروقت و معیاری علاج کو گھروں کے قریب یقینی بنانے کے وسیع تر وژن کے مطابق ہے۔
وزیر صحت نے فیکلٹی، میڈیکل کالج انتظامیہ اور محکمہ کی مسلسل کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ این ایم سی کے معیارات پر پورا اترنے میں انہی کی محنت نے اس منظوری کو ممکن بنایا۔
ایتو نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت طبی تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور افرادی قوت کی ترقی میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتی رہے گی تاکہ جموں و کشمیر کے عوام کو عالمی معیار کی طبی سہولیات میسر آئیں۔
موصوفہ نے کہا کہ یہ پیش رفت حکومت کی جاری صحت اصلاحات میں ایک اور سنگِ میل ہے اور جموں و کشمیر کو طبی تعلیم اور خصوصی صحت خدمات کے ایک ممتاز مرکز میں تبدیل کرنے کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔










