جموں: جموں و کشمیر اسمبلی میں جمعرات کو اُس وقت گرما گرمی دیکھنے کو ملی جب کانگریس کے دو ارکانِ اسمبلی نے ڈپٹی کمشنر کشتواڑ کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران چندہ جمع کرنے کے ضوابط سے متعلق جاری حکم نامے کو غیر آئینی، شریعت مخالف اور شہری آزادیوں میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔
بحث کا آغاز ایم ایل اے بانڈی پورہ نظام الدین بٹ نے کیا۔ محکموں سے متعلق گرانٹس پر بحث کے دوران انہوں نے کہا کہ ماہِ رمضان میں صدقہ اور زکوٰۃ کی وصولی پر انتظامی نگرانی ’نجی مذہبی عمل میں بے جا مداخلت‘ ہے۔
بٹ نے کہا، ’یہ شریعت اور آئینی آزادی دونوں کے خلاف ہے۔ صدقہ اور زکوٰۃ کا معاملہ نہایت نجی ہے، ہماری شریعت کہتی ہے کہ ’ایک ہاتھ دے تو دوسرے کو خبر نہ ہو‘۔ ایسے مذہبی معاملات پر انتظامی نظر رکھنا کہاں کا اصول ہے؟‘
کانگریسی رکن نے حکم نامے کو بالکل غیر آئینی، خلافِ قانون، اکسا دینے والا اور شہری حقوق پر ضرب قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے معاملے کا ازسرِ نو جائزہ لینے اور ہدایت نامہ فوری واپس لینے پر زور دیا۔
سینئر کانگریس رہنما غلام احمد میر نے بھی بٹ کی حمایت کرتے ہوئے اسے ’حیران کن‘ قرار دیا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا، ’ملک میں پہلی بار ایسا حکم جاری کیا گیا ہے۔ یہ مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، اسے فوراً منسوخ کیا جانا چاہیے۔‘
ڈپٹی کمشنر کے حکم کے مطابق ضلع میں چندہ جمع کرنے والی کسی بھی تنظیم یا فرد کو وقف بورڈ کے ایگزیکٹو افسر، امام جامع مسجد کشتواڑ (صدر مجلسِ شوریٰ) یا متعلقہ تحصیلدار سے پیشگی منظوری لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ہدایت دی گئی ہے کہ تمام چندہ جمع کرنے والے اداروں کو اپنی وصولی اور تقسیم کا مکمل ریکارڈ شفاف طریقے سے رکھنا ہوگا۔










