ریاض،16 فروری (یو این آئی )
سعودی وزارتِ داخلہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، 5 سے 11 فروری 2026 کے دوران مملکت بھر میں مختلف قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی، سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی مزید 21 ہزار 29 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 13 ہزار 213 غیرقانونی تارکین کو ملک بدر کیا گیا۔
جن میں 12,875 افراد کو اقامہ قوانین کی خلاف ورزی پر پکڑا گیا۔ جبکہ 3,376 افراد کو روزگار کے ضوابط کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ 4,778 افراد کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش پر حراست میں لیا گیا۔رپورٹس کے مطابق غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر 2 ہزار307 افراد کو حراست میں لیا گیا، ان میں 52 فیصد ایتھوپین، 47 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس وقت مجموعی طور پر 23,212 تارکین (جن میں 22,040 مرد اور 1,272 خواتین شامل ہیں) کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ حالیہ رپورٹنگ پیریڈ کے دوران 13,213 غیر قانونی تارکین کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
سعودی حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی تارکین کو رہائش، سفر یا ملازمت فراہم کرنا سنگین جرم ہے۔ اس سلسلے میں29 افراد کو غیر قانونی تارکین کو پناہ یا سفری سہولت دینے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔75 افراد کو مملکت سے پڑوسی ممالک میں غیر قانونی طور پر فرار ہونے کی کوشش کے دوران پکڑا گیا۔
آسٹریلیا اور یورپی یونین ’فری ٹریڈ ایگریمنٹ‘ پر دستخط کے قریب:رپورٹس
کینبرا، 16 فروری (یو این آئی)
آسٹریلیا اور یورپی یونین ’فری ٹریڈ ایگریمنٹ‘ سے متعلق مذاکرات کے آخری مراحل میں ہیں، جس پر آئندہ چند ہفتوں میں دستخط ہو سکتے ہیں یہ بات اے بی سی نیوز نے برسلز اور کینبرا کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی ایک چینل کے مطابق آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البنیز اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین سے توقع ہے کہ وہ آخری متنازعہ مسئلہ حل ہونے کے بعد اس معاہدے پر دستخط کریں گی۔ ذرائع کے مطابق یہ مسئلہ ریڈ میٹ کی برآمدات سے متعلق ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وان ڈیر لیین آسٹریلیا کا دورہ کر سکتی ہیں، تاکہ نہ صرف تجارتی معاہدے،بلکہ ایک علیحدہ سکیورٹی شراکت داری پر بھی دستخط کریں، تاہم اس دورے کی حتمی تاریخوں کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔
کینبرا اور برسلز کے درمیان مذاکرات کئی برسوں تک جاری رہے اور 2023 میں تقریباً معطل ہو گئے تھے۔ آسٹریلیا کے وزیر تجارت ڈان فیرل نے پہلے کہا تھا کہ ملک اس وقت تک معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا، جب تک یورپی یونین ٹیرف رکاوٹوں میں کمی نہیں کرتی، تاکہ آسٹریلوی زرعی مصنوعات، جن میں بیف اور بھیڑ کا گوشت شامل ہے، کی برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔
یورپی یونین پہلے ہی آسٹریلیا کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس معاہدے پر دستخط سے یورپی یونین کی تقریباً 45 کروڑ آبادی پر مشتمل منڈی آسٹریلوی کمپنیوں کے لیے کھل سکتی ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کو اضافی تقویت مل سکتی ہے۔








