سرینگر: ۲۳فروری سے جموں و کشمیر کے گلمرگ میں شروع ہونے والے کھیلو انڈیا ونٹر گیمز میں۷۰۰سے زائد کھلاڑیوں اور آفیشلز کی شرکت متوقع ہے۔
اسکی اسسٹنٹ محمد رفیق چیچی نے کہا’’اس موسمِ سرما میں اچھی برف باری ہوئی ہے جو اسکیئنگ اور سلجنگ سرگرمیوں کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ کھیلو انڈیا ونٹر گیمز یہاں ہو رہے ہیں اور اس سے ہمیں روزگار کمانے میں مدد ملے گی‘‘۔
کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کے آئس مقابلوں کا پہلا مرحلہ اس سال۲۰سے۲۶جنوری تک لداخ کے لیہہ میں منعقد ہوا، جبکہ برفانی مقابلوں پر مشتمل دوسرا مرحلہ۲۳سے۲۶فروری تک گلمرگ میں ہوگا۔
محکمہ یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس کی جاری کردہ ایک ویڈیو میں چیچی نے کہا’’گلمرگ تیار ہے، آپ کا انتظار ہے‘‘۔
گلمرگ میں چار میڈل مقابلے ہوں گے جن میں اسکی ماؤنٹینئرنگ، الپائن اسکیئنگ، نارڈک اسکیئنگ (کراس کنٹری) اور سنو بورڈنگ شامل ہیں۔ تقریباً۴۰۰ کھلاڑی مقابلوں میں حصہ لیں گے جبکہ الپائن اسکیئنگ میں سب سے زیادہ شرکت متوقع ہے۔
قریبی علاقے ٹنگمرگ کے سیاحتی گائیڈ اعجاز احمد وانی نے کہا کہ گلمرگ اور اطراف کے علاقوں کے بڑی تعداد میں نوجوان سیاحت سے وابستہ سرگرمیوں سے روزگار کماتے ہیں۔
وانی نے کہا’’جتنے زیادہ سیاح آئیں گے ہماری آمدنی اتنی بہتر ہوگی۔ گزشتہ سال پہلگام حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم اب سیاح دوبارہ آنا شروع ہوگئے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ونٹر گیمز کشمیر میں سیاحت کے لیے ایک اچھے سال کی شروعات ثابت ہوں گے‘‘۔
مرکزی وزیر کھیل و امور نوجوانان منسکھ منڈاویا نے گزشتہ ہفتے کھیلو انڈیا ونٹر گیمز۲۰۲۶کے گلمرگ مرحلے کی تاریخوں کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا’’سرمائی اولمپکس کے فوراً بعد گلمرگ مرحلہ ہو رہا ہے اور یہ کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کی میزبانی کے لیے بہترین وقت ہے‘‘۔
یہ کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کا چھٹا ایڈیشن ہوگا اور تمام چھ ایڈیشن جموں و کشمیر اور لداخ میں منعقد ہوئے ہیں۔
ا منڈاویا نے مزید کہا کہ لیہہ میں کامیاب پہلے مرحلے کے بعد جموں و کشمیر میں بھی اسی طرح کا جوش و خروش دیکھنے کو ملے گا۔
کھیلو انڈیا ونٹر گیمز۲۰۲۵کے اختتام پر بھارتی فوج۱۸تمغوں کے ساتھ ٹیم درجہ بندی میں پہلے نمبر پر رہی، جبکہ ہماچل پردیش دوسرے، لداخ تیسرے، مہاراشٹر چوتھے اور تمل ناڈو پانچویں نمبر پر رہے۔
کھیلو انڈیا ونٹر گیمز۲۰۲۶ کے لداخ مرحلے کے اختتام پر ہریانہ چار طلائی تمغوں کے ساتھ میڈل ٹیبل پر سرفہرست رہا، اس کے بعد لداخ، مہاراشٹر اور تلنگانہ رہے۔ ۔۔۔۔










