سرینگر: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ طلبہ ٹیکنالوجی کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں بلکہ اسے اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔
پریکشا پہ چرچا کے دوسرے مرحلے میں انہوں نے کہا کہ موبائل فون بعض بچوں کے آقا بن چکے ہیں اور وہ بغیر موبائل یا ٹی وی اسکرین کے کھانا تک نہیں کھا سکتے۔
وزیر اعظم نے کہا’’اس کا مطلب ہے کہ آپ موبائل کے غلام بن گئے ہیں۔ آپ کو پختہ عہد کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ یہ بات انہوں نے کوئمبٹور، رائے پور، گوہاٹی اور گجرات میں طلبہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں کہی۔
وزیر اعظم نے طلبہ کو ابھرتی ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ نہ ہونے بلکہ اسے اپنی مہارت اور صلاحیت نکھارنے کے لیے استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے کہا’’ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اے آئی یا موبائل کو آقا نہ بنائیں؛ کچھ بچے اسمارٹ فون دیکھے بغیر کھانا نہیں کھاتے۔ ہم اے آئی کو مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں‘‘۔
مودی نے امتحانات میں بہتر کارکردگی کے لیے سابقہ سوالیہ پرچے حل کرنے اور بھرپور نیند لینے پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا’’اگر آپ اچھی تیاری کریں گے تو کبھی تناؤ محسوس نہیں ہوگا۔ اچھی رات کی نیند آپ کو پورا دن خوشگوار رکھے گی‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ملک کے دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ بھی وِکست بھارت۲۰۴۷کا خواب ذہن میں رکھتے ہیں۔
وزیرا عظم نے کہا’’یہ میرے لیے خوشی کی بات ہے۔ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی عادتیں اپنانی چاہئیں سرخ بتی پر انجن بند کریں، کھانا ضائع نہ کریں اور فضول خرچی کم کریں‘ نظم و ضبط زندگی میں بہت اہم ہے‘‘۔ انہوں نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں اساتذہ کے کردار اور صحت کے لیے ورزش پر زور دینے کو بھی یاد کیا۔
مودی نے کہا’’اگر آپ کسی عظیم شخص سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ اس کی زندگی بنانے میں ماں اور اساتذہ کا بڑا کردار رہا ہے‘‘۔
قیادت کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ بہتر ابلاغ ایک بنیادی خوبی ہے۔انہوں نے کہا’’لیڈر بننے کے لیے پہل کرنے کی ذہنیت پیدا کریں۔ قیادت صرف الیکشن لڑنے کا نام نہیں۔ ایک اہم خوبی یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات کم از کم دس لوگوں تک واضح اور مؤثر انداز میں پہنچا سکیں‘‘۔
پریکشا پہ چرچا کے نویں ایڈیشن کی پہلی قسط گزشتہ ہفتے نشر ہوئی تھی جس میں وزیر اعظم نے طلبہ کو مشورہ دیا تھا کہ سب کی بات سنیں مگر طرز زندگی میں تبدیلی اپنی مرضی سے کریں۔ انہوں نے کہا تھا کہ تعلیم بوجھ محسوس نہیں ہونی چاہیے اور صرف نمبروں کے بجائے زندگی بہتر بنانے پر بھی توجہ دیں۔
۲۰۱۸ میں شروع ہونے والا پریکشا پہ چرچا ابتدا میں ٹاؤن ہال طرز کی گفتگو تھا جو بعد میں ملک کے سب سے بڑے تعلیمی رابطہ پروگراموں میں تبدیل ہو گیا۔
رجسٹریشن۲۰۲۳میں تقریباً 38.8 لاکھ سے بڑھ کر۲۰۲۴میں 2.26 کروڑ اور۲۰۲۵میں 3.53 کروڑ تک پہنچ گئے جس پر پروگرام کو گنیز ورلڈ ریکارڈ ملا، جبکہ نویں ایڈیشن میں 4.5 کروڑ سے زائد رجسٹریشن ہوئیں۔ (ایجنسیاں)










