سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ جموں و کشمیر میں ہائیڈرو پاور سیکٹر میں بڑی توسیع ہونے جا رہی ہے اور مشترکہ نصب شدہ پیداواری صلاحیت۲۰۳۰۔۲۰۳۱تک بڑھ کر 7,314.85 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
قانون ساز اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے رکن خورشید احمد کے سوال کے تحریری جواب میں عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت۳۲فعال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس ہیں جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت۳۵۴۰میگاواٹ ہے۔
ان میں۱۳یونین ٹیریٹری سیکٹر کے منصوبے شامل ہیں جن کی صلاحیت۱۱۹۷میگاواٹ ہے، چھ مرکزی سیکٹر کے منصوبے۲۲۵۰میگاواٹ پیدا کر رہے ہیں، جبکہ۱۲نجی شعبہ کے منصوبوں کی مشترکہ صلاحیت 92.75 میگاواٹ ہے۔ عبداللہ، جو محکمہ پاور ڈیولپمنٹ کے انچارج وزیر بھی ہیں، نے یہ تفصیل فراہم کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے آٹھ مجوزہ اور چھ زیر تعمیر پن بجلی منصوبوں کے ذریعے 3,704.5 میگاواٹ اضافی صلاحیت شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جنہیں۲۰۲۶۔۲۷ سے۲۰۳۰۔۳۱کے درمیان مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ۲۰۲۶۔۲۷میں 1,685.7 میگاواٹ‘۲۰۲۷۔۲۸میں 577.5 میگاواٹ‘۲۰۲۹۔۳۰ میں۱۳۷۰ میگاواٹ اور۲۰۳۰۔۳۱میں۱۴۱میگاواٹ اضافہ ہوگا، جس سے مجموعی نصب شدہ صلاحیت بڑھ کر 7,314.85 میگاواٹ ہو جائے گی۔
حلقہ گلاب گڑھ میں اینز (نندولی) ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ منصوبہ۲۰۱۱۔۱۲ میں ٹینڈر کیا گیا تھا، نومبر۲۰۱۲میں الاٹ ہوا اور مارچ۲۰۱۳میں عملدرآمد معاہدہ طے پایا۔تاہم انہوں نے کہا کہ آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنی کی ناقص کارکردگی کے باعث منصوبے میں تاخیر ہوئی اور کارپوریشن نے اگست۲۰۲۵میں اسے ڈیفالٹ نوٹس جاری کیا۔ اس کے جواب میں کمپنی نے۸؍ اکتوبر۲۰۲۵ کو تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ جمع کرائی۔
مزید برآں۱۶جنوری کو ایک اور خط کے ذریعے کمپنی نے مالی تجزیہ پیش کیا جس میں۴۰سالہ لیولائزڈ ٹیرف 7.30 روپے فی یونٹ بتایا گیا، جو موجودہ توانائی مارکیٹ نرخوں کے مطابق منصوبے کو تکنیکی و معاشی طور پر غیر قابل عمل بناتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئی پی پی نے بیرونی عوامل اور پالیسی رکاوٹوں کو تاخیر کی وجہ قرار دیتے ہوئے جمع شدہ پریمیم رقم کی واپسی کے ساتھ منصوبے سے نکلنے کی درخواست کی ہے۔ معاملہ جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے زیر غور ہے اور اس پر عملدرآمد معاہدے اور ہائیڈرو الیکٹرک پاور پالیسی۲۰۱۱ کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ جموں ڈویژن کے تمام دیہات آن گرڈ یا آف گرڈ کسی نہ کسی صورت میں بجلی سے منسلک ہو چکے ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’کوئی بھی گاؤں مجموعی طور پر غیر برقی نہیں رہا، تاہم کچھ نئی آبادیاں یا محلے یا گھر ایسے ہیں جہاں ابھی بجلی نہیں پہنچی۔ ان غیر برقی یا جزوی طور پر برقی آبادیوں اور گھروں کو مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے تحت بجلی فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں‘‘یہ جواب بی جے پی کے ستیش کمار شرما کے سوال پر دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کچھ دیہی اور دور دراز آبادیاں‘ گاؤں نہیں جیسے بلّاور علاقے کی پنچایت مدون/دہوٹہ کے تھِنگن، کنوڈی اور ہنوک جزوی یا مکمل طور پر غیر برقی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں آبادی کا پھیلاؤ ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے وقفے وقفے سے لو ٹینشن نیٹ ورک میں توسیع ضروری ہوتی ہے۔
بلّاور حلقہ میں غیر برقی آبادیوں یا گھروں کو اس اسکیم کے تحت برقی بنانے کی تجویز دی گئی تھی اور بیشتر غیر برقی گھروں کی منظوری دی جا چکی ہے، جس پر جے پی ڈی سی ایل پروجیکٹ ڈویژن جموں کے ذریعے عمل جاری ہے۔
تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تھِنگن، کنوڈی اور ہنوک جیسی کچھ آبادیوں کو پہلے لاگت میں اضافے کے باعث حتمی منظور شدہ ڈی پی آر سے خارج کر دیا گیا تھا اور اب ان کے لیے نئی ڈی پی آرزتیار کی جا رہی ہیں۔










