جموں: جموں و کشمیر اسمبلی میں کانگریس کے سینئر لیڈر طاریق حمید قرہ کے تحریری سوال کے جواب میں حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یونین ٹریٹری میں پنچایت اور اربن لوکل باڈیز کے انتخابات کرانے کی پوری ذمہ داری اسٹیٹ الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے، تاہم کمیشن کی سربراہی اس وقت خالی ہونے کے باعث انتخابی عمل کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ بیک وارڈ کلاس کمیشن کی رپورٹ اب بھی منظوری کے مرحلے میں ہے اور اس رپورٹ کے بغیر نہ ریزرویشن مکمل ہو سکتی ہے اور نہ ہی وارڈ بندی کا عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں پنچایتوں کی مدت۹جنوری۲۰۲۴کو مکمل ہو چکی ہے جبکہ سرینگر میونسپل کارپوریشن کی مدت۵نومبر۲۰۲۳؍اور جموں میونسپل کارپوریشن کی مدت۱۴نومبر۲۰۲۳کو ختم ہوئی۔ اسی طرح ریاست بھر کی تمام میونسپل کونسلوں اور کمیٹیوں کی مدت بھی اکتوبر اور نومبر۲۰۲۳کے دوران پوری ہو چکی ہے۔ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسلوں کی مدت البتہ اب بھی برقرار ہے اور یہ۲۴ فروری۲۰۲۶ کو ختم ہوگی۔
حلقہ بندی کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ پنچایتی حلقہ بندی۲۰۱۱کی مردم شماری کی بنیاد پر۲۰۱۷اور۲۰۱۸میں مکمل کی گئی تھی۔ قانون کے مطابق نئی حلقہ بندی صرف نئی مردم شماری کے بعد ہی ممکن ہے، اور چونکہ۲۰۱۱کے بعد ابھی تک کوئی نئی مردم شماری نہیں ہوئی، اس لیے پنچایتی حلقوں کی نئی ازسرِنو حد بندی فی الحال زیرِ غور نہیں ہے۔ البتہ بلدیاتی اداروں کی حلقہ بندی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔۷۷میں سے۷۲اداروں کی حلقہ بندی مکمل کر لی گئی ہے جبکہ بقیہ پانچ پر کام جاری ہے۔
حکومت کے مطابق بیک وارڈ کلاس کمیشن کی رپورٹ کی منظوری کے بعد ہی وارڈ ریزرویشن اور روٹیشن کے معاملات آگے بڑھ سکیں گے۔
حکومت نے بتایا کہ پنچایتی انتخابات کے لیے انتخابی فہرستوں کی تازہ کاری مکمل کر لی گئی ہے اور اس کے لیے یکم جنوری۲۰۲۵کو بطو’کوالفائنگ ڈیٹ‘استعمال کیا گیا ہے۔ اربن لوکل باڈیز کے لیے انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی حکومت کی باضابطہ ہدایات موصول ہونے کے بعد کی جائے گی، جیسا کہ جے کے میونسپل الیکشن رولز۲۰۰۳میں درج ہے۔
انتخابی مواد کی خریداری میں بھی پیش رفت ہوئی ہے اور تقریباً۳۰ہزار بیلٹ بکس خریدے جا چکے ہیں، جبکہ ریاست مدھیہ پردیش کے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے ساتھ معاہدے کے تحت جموں و کشمیر کے لیے۷ہزارملٹی پوسٹ ای وی ایم فراہم کیے جائیں گے۔
حکومت نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ جموں و کشمیر میں تین سطحی پنچایتی نظام پہلے ہی قائم کیا جا چکا ہے۔۴۲۹۱سرپنچ اور۳۳ہزار سے زائد پنچ منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ۲۷۶بی ڈی سی چیئرمین بھی اپنے عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔۲۰۲۰میں پہلی بار ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسلوں کے قیام کے بعد ضلع سطح پر براہ راست منتخب نمائندوں کا انتظامی ڈھانچہ مضبوط ہوا ہے۔
حکومت کے مطابق۶۰۰سے زائد نئے پنچایت گھروں کی تعمیر جاری ہے اور تمام پنچایتوں کو انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کے لیے مربوط منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران سات لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد کو گورننس، فنانشل مینجمنٹ اور پلاننگ سے متعلق تربیت دی گئی ہے۔ اسی طرح ای گرام سوراج اور ایس وی ایمتوا جیسے منصوبوں کے ذریعے پنچایتوں کو ڈیجیٹل گورننس کے ماڈل سے جوڑا جا رہا ہے۔
حکومت نے اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر میں مضبوط اور مؤثر پنچایتی و بلدیاتی نظام جمہوریت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، تاہم اس وقت اسٹیٹ الیکشن کمشنر کی عدم تقرری اور او بی سی رپورٹ کی عدم منظوری نے پورے انتخابی عمل میں تاخیر پیدا کر دی ہے۔
حکومت نے کہا کہ جیسے ہی یہ دونوں معاملات حل ہوں گے، پنچایت اور یو ایل بی انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات تیزی سے مکمل کیے جائیں گے۔










