منگل, اکتوبر 27, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری ریاستی الیکشن کمیشن کی ہے‘

اس وقت کمیشن کا کوئی سربراہ نہیں ہے ‘اسی لئے انتخابی عمل کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان ممکن نہیں ہو سکا ہے:حکومت 

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-10
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
’پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری ریاستی الیکشن کمیشن کی ہے‘
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

عمر کابینہ کی اگلے ہفتے توسیع اور رد و بدل 

کے ڈی اے کا یکطرفہ نوٹیفکیشنز کے خلاف احتجاج کا انتباہ

جموں: جموں و کشمیر اسمبلی میں کانگریس کے سینئر لیڈر طاریق حمید قرہ کے تحریری سوال کے جواب میں حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یونین ٹریٹری میں پنچایت اور اربن لوکل باڈیز کے انتخابات کرانے کی پوری ذمہ داری اسٹیٹ الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے، تاہم کمیشن کی سربراہی اس وقت خالی ہونے کے باعث انتخابی عمل کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ بیک وارڈ کلاس کمیشن کی رپورٹ اب بھی منظوری کے مرحلے میں ہے اور اس رپورٹ کے بغیر نہ ریزرویشن مکمل ہو سکتی ہے اور نہ ہی وارڈ بندی کا عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں پنچایتوں کی مدت۹جنوری۲۰۲۴کو مکمل ہو چکی ہے جبکہ سرینگر میونسپل کارپوریشن کی مدت۵نومبر۲۰۲۳؍اور جموں میونسپل کارپوریشن کی مدت۱۴نومبر۲۰۲۳کو ختم ہوئی۔ اسی طرح ریاست بھر کی تمام میونسپل کونسلوں اور کمیٹیوں کی مدت بھی اکتوبر اور نومبر۲۰۲۳کے دوران پوری ہو چکی ہے۔ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسلوں کی مدت البتہ اب بھی برقرار ہے اور یہ۲۴ فروری۲۰۲۶ کو ختم ہوگی۔
حلقہ بندی کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ پنچایتی حلقہ بندی۲۰۱۱کی مردم شماری کی بنیاد پر۲۰۱۷اور۲۰۱۸میں مکمل کی گئی تھی۔ قانون کے مطابق نئی حلقہ بندی صرف نئی مردم شماری کے بعد ہی ممکن ہے، اور چونکہ۲۰۱۱کے بعد ابھی تک کوئی نئی مردم شماری نہیں ہوئی، اس لیے پنچایتی حلقوں کی نئی ازسرِنو حد بندی فی الحال زیرِ غور نہیں ہے۔ البتہ بلدیاتی اداروں کی حلقہ بندی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔۷۷میں سے۷۲اداروں کی حلقہ بندی مکمل کر لی گئی ہے جبکہ بقیہ پانچ پر کام جاری ہے۔
حکومت کے مطابق بیک وارڈ کلاس کمیشن کی رپورٹ کی منظوری کے بعد ہی وارڈ ریزرویشن اور روٹیشن کے معاملات آگے بڑھ سکیں گے۔
حکومت نے بتایا کہ پنچایتی انتخابات کے لیے انتخابی فہرستوں کی تازہ کاری مکمل کر لی گئی ہے اور اس کے لیے یکم جنوری۲۰۲۵کو بطو’کوالفائنگ ڈیٹ‘استعمال کیا گیا ہے۔ اربن لوکل باڈیز کے لیے انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی حکومت کی باضابطہ ہدایات موصول ہونے کے بعد کی جائے گی، جیسا کہ جے کے میونسپل الیکشن رولز۲۰۰۳میں درج ہے۔
انتخابی مواد کی خریداری میں بھی پیش رفت ہوئی ہے اور تقریباً۳۰ہزار بیلٹ بکس خریدے جا چکے ہیں، جبکہ ریاست مدھیہ پردیش کے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے ساتھ معاہدے کے تحت جموں و کشمیر کے لیے۷ہزارملٹی پوسٹ ای وی ایم فراہم کیے جائیں گے۔
حکومت نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ جموں و کشمیر میں تین سطحی پنچایتی نظام پہلے ہی قائم کیا جا چکا ہے۔۴۲۹۱سرپنچ اور۳۳ہزار سے زائد پنچ منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ۲۷۶بی ڈی سی چیئرمین بھی اپنے عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔۲۰۲۰میں پہلی بار ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسلوں کے قیام کے بعد ضلع سطح پر براہ راست منتخب نمائندوں کا انتظامی ڈھانچہ مضبوط ہوا ہے۔
حکومت کے مطابق۶۰۰سے زائد نئے پنچایت گھروں کی تعمیر جاری ہے اور تمام پنچایتوں کو انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کے لیے مربوط منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران سات لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد کو گورننس، فنانشل مینجمنٹ اور پلاننگ سے متعلق تربیت دی گئی ہے۔ اسی طرح ای گرام سوراج اور ایس وی ایمتوا جیسے منصوبوں کے ذریعے پنچایتوں کو ڈیجیٹل گورننس کے ماڈل سے جوڑا جا رہا ہے۔
حکومت نے اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر میں مضبوط اور مؤثر پنچایتی و بلدیاتی نظام جمہوریت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، تاہم اس وقت اسٹیٹ الیکشن کمشنر کی عدم تقرری اور او بی سی رپورٹ کی عدم منظوری نے پورے انتخابی عمل میں تاخیر پیدا کر دی ہے۔
حکومت نے کہا کہ جیسے ہی یہ دونوں معاملات حل ہوں گے، پنچایت اور یو ایل بی انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات تیزی سے مکمل کیے جائیں گے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

 منریگا کے عملے کو مستقل کرنے کی کوئی تجویز نہیں:حکومت

Next Post

ساسکی اسکیم پر وحید پرہ نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا 

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

عمر کابینہ کی اگلے ہفتے توسیع اور رد و بدل 

2026-10-25
کے ڈی اے کا یکطرفہ نوٹیفکیشنز کے خلاف احتجاج کا انتباہ
اہم ترین

کے ڈی اے کا یکطرفہ نوٹیفکیشنز کے خلاف احتجاج کا انتباہ

2026-10-25
لیفٹیننٹ گورنر اوروزیر اعلیٰ کی لوگوں کو نئے سال کی مبارکباد 
اہم ترین

عمر عبداللہ کو کابینہ میں توسیع اور رد و بدل کیلئے ناموں کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا

2026-10-25
ممنوعہ تنظیم سے وابستہ خواتین کا نیٹ ورک بے نقاب:پولیس
اہم ترین

ممنوعہ تنظیم سے وابستہ خواتین کا نیٹ ورک بے نقاب:پولیس

2026-10-25
سجن سنگھ یادو نئے چیف سیکریٹری ہوں گے‘مرکزمیں اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں
اہم ترین

سجن سنگھ یادو نئے چیف سیکریٹری ہوں گے‘مرکزمیں اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں

2026-10-25
ڈاکٹرفاروق کا یو این کی انسانی حقوق کمیٹی سے پی او کے کی صورتحال کی تحقیقات کا مطالبہ
اہم ترین

فاروق عبداللہ کا کارکنوں کو حقوق کے لیے ڈٹ کر لڑنے کا مشورہ، کہا ’حوصلہ دکھائیں یا مٹنے کے لیے تیار رہیں‘

2026-10-25
پونچھ راجوری اضلاع میں۱۸۰۰ سی آر پی ایف اہلکار تعینات کئے جا رہے ہیں
اہم ترین

جموں جیل میں تلاشی، سانبہ میں سرنگ مخالف کارروائی

2026-10-25
این سی-آئی این سی اتحاد نے اننت ناگ میں کامیابی حاصل کی۔ پی ڈی پی کوئی نشست حاصل کرنے میں ناکام
اہم ترین

کانگریس کا عمر کابینہ میں  شامل ہونے سے انکار  ریاستی درجے کی بحالی پر اصرار

2026-10-25
Next Post
ساسکی اسکیم پر وحید پرہ نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا 

ساسکی اسکیم پر وحید پرہ نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا 

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.