جموں: جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو اسمبلی کو مطلع کیا کہ اس کے پاس مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (ایم جی این آر ای جی اے) کے معاون عملے کو باقاعدہ بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
حکومت نے ساتھ ہی کہا کہ فی الحال تقریباً۳۸۰۰؍اہلکار مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مکمل طور پر کنٹریکٹ اور عارضی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔
یرکن اسمبلی میر محمد فیاض کے سوال کے جواب میں حکومت نے کہا’’ تقریباً۳۸۰۰منریگا سپورٹ عملہ جموںکشمیر میں مصروف ہے، اور ان کے اعزازی معاوضے میں ان کی ابتدائی کنٹریکٹ پر تقرریوں کے بعد سے وقتاً فوقتاً نظر ثانی کی جاتی رہی ہے‘‘۔
حکومت نے تفصیلی جواب میں کہا کہ منریگا کے عملے کو مختلف سطحوں پر تعینات کیا گیا ہے، پنچایت، بلاک، ضلع، ڈویژنل اور یونین ٹریٹری سطحوں اور دیہی روزگار اسکیم کے نچلی سطح پر عمل آوری میں یہ اہلکار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ان اہلکاروں کی مستقلی کے بارے میں ایوان کو بتایا گیا کہ مرکزی اسپانسر شدہ منریگا اسکیم کے تحت تمام معاون عملہ عارضی، معاہدہ کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں، جو صرف کنٹریکٹ کی مدت یا اسکیم کی مدت کے لیے درست ہے۔
حکومت نے بتایا کہ ان کی تقرری کسی منظور شدہ خالی اسامی کے مطابق نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے کہا’’ آج تک، منریگا کے تحت مصروف عملہ کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے بارے میں کوئی تجویز نہیں ہے‘‘۔
محکمے نے کہا کہ تاہم معاون عملے کے اعزازیہ میں وقتاً فوقتاً اضافہ کیا جاتا رہا ہے، جس میں ایک حکومتی حکم مورخہ۳۰جنوری۲۰۲۴کے تحت تازہ ترین نظرثانی جاری کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ ماہانہ اعزازیہ کے مطابق جی آر ایس کا اعزازیہ۶ہزار۸سو۶سے۱۰ ہزار۲سو۹روپیے، ٹیکنیکل اسسٹنٹ کا اعزازیہ۱۱ہزار سے۱۶ہزار۵سوروپیے ، ایم آئی ایس آپریٹر کا۱۱ہزار سے۱۳ہزار۲ اور اکائونٹس اسسٹنٹ کا اعزازیہ۶ہزار۸ سو ۶روپے سے بڑھا کر۱۰ہزار۲سو ۹روپے کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے مزید کہا کہ مستقبل میں اعزازیہ میں کسی بھی اضافہ پر اسٹیٹ ایمپلائمنٹ گارنٹی کونسل (ایس ای جی سی) کی اگلی میٹنگوں میں غور کیا جائے گا۔










