سرینگر: وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز کہا کہ بھارت کو اب’ترقی کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور یہ حالیہ تجارتی معاہدوں سے ظاہر ہوتا ہے جو اس نے برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین سمیت مختلف ممالک کے ساتھ کیے ہیں۔
کوالالمپور میں کمیونٹی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ بھارتی تارکینِ وطن بھارت اور ملائیشیا کے درمیان ایک زندہ پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس جزیرہ نما ملک میں ایک نئے قونصل خانے اور تھروولوور اسکالرشپ کے قیام کا اعلان بھی کیا تاکہ طلبہ بھارت میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
مودی جو ہفتہ کے روز دو روزہ دورے پر کوالالمپور پہنچے، انہوں نے مختلف ممالک کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو’ترقی کے لیے قابلِ اعتماد شراکت دار‘ سمجھا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا’’اعتماد بھارت کی سب سے مضبوط کرنسی بن چکا ہے‘‘ اور برطانیہ، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، عمان، یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ معاہدوں کا ذکر کیا۔
ملائیشیا میں تقریباً تیس لاکھ بھارتی نژاد افراد آباد ہیں جو دنیا میں دوسری بڑی تعداد ہے، جن کی اکثریت تامل نژاد ہے۔
مختلف زبانوں میں بھارتی برادری کو خوش آمدید کہتے ہوئے وزیراعظم نے اپنے ملائیشیائی ہم منصب انور ابراہیم کی گلوکاری، خصوصاً لیجنڈری اداکار و سیاست دان ایم جی رام چندرن (ایم جی آر) کے تامل گانوں سے محبت کا خاص طور پر ذکر کیا۔
مودی نے کہا’’تامل دنیا کے لیے بھارت کا تحفہ ہے۔ تامل ادب لازوال ہے اور تامل ثقافت عالمی ہے۔ تامل لوگوں نے اپنی صلاحیتوں سے انسانیت کی خدمت کی ہے‘‘۔اور یاد دلایا کہ بھارت کے نائب صدر سی پی رادھا کرشنن اور مرکزی وزرا ایس جے شنکر، نرملا سیتا رمن اور ایل مرگن تامل ناڈو سے تعلق رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا’’تامل تارکینِ وطن کئی صدیوں سے یہاں موجود ہیں۔ اسی تاریخ سے متاثر ہو کر ہمیں یونیورسٹی آف ملایا میں تھروولوور چیئر قائم کرنے پر فخر ہے۔ اب ہم اپنے مشترکہ ورثے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تھروولوور سینٹر بھی قائم کریں گے‘‘۔
مودی نے کہا کہ وہ ملائیشیا میں آ کر بے حد خوش ہیں اور یہ۲۰۲۶میں ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔انہوں نے کہا’’بھارت ہمیشہ آپ کو کھلے بازوؤں سے گلے لگائے گا۔ اسی لیے چند ماہ پہلے ہم نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے ملائیشیائی شہریوں میں بھارتی نژاد افراد کو چھٹی نسل تک او سی آئی کارڈ کی اہلیت دینے کا اعلان کیا‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیراعظم، جو تقریب میں موجود تھے، ان کی دوستی اس وقت سے ہے جب وہ وزیراعظم نہیں بنے تھے۔انہوں نے کہا’’بھارت کی کامیابی ملائیشیا کی کامیابی ہے اور یہ ایشیا کی کامیابی ہے۔‘انہوں نے کہا کہ بھارت اور ملائیشیا ترقی اور خوشحالی کے شراکت دار کے طور پر ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چل رہے ہیں اور ایک دوسرے کی کامیابیوں کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔
مودی نے کہا’’چندریان۳کی تاریخی کامیابی پر وزیراعظم انور ابراہیم کی پرتپاک مبارکباد نے مجھے بہت متاثر کیا۔ میں اپنے عزیز دوست سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ بھارت کی کامیابی ملائیشیا اور ایشیا کی کامیابی ہے۔ یہی مشترکہ اثر ہمارے تعلقات کی بنیاد ہے‘‘۔
اس سے قبل مودی اور ان کے ملائیشیائی ہم منصب کا تقریب میں زبردست استقبال کیا گیا۔










