سرینگر: حکام نے بتایا کہ ایک اپنی نوعیت کے پہلے اقدام کے تحت اعلیٰ نسل کے بیل بنگلورو سے ریل کے پارسل ڈبوں کے ذریعے جموں و کشمیر منتقل کیے گئے اور جمعہ کو یہ کھیپ وادی کے بڈگام ریلوے اسٹیشن پہنچ گئی۔
۲۳بیلوں کی منتقلی محکمہ زراعت و حیوان پروری کے بریڈنگ ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت کی گئی اور اسے شمالی ریلوے کے جموں ڈویژن نے ممکن بنایا، جو پہلی بار ہے کہ مویشیوں کو اتنے طویل فاصلے تک ریل کے ذریعے کشمیر لایا گیا۔
حکام نے بتایا کہ چھ بیل جموں کے بڑی برہمنہ گڈز شیڈ پر اتارے گئے جبکہ باقی۱۷مرکزی کشمیر کے بڈگام گڈز شیڈ پر اتارے گئے۔
حکام نے کہا’’پارسل ٹرین، جو کرناٹک کے بنگلورو سے روانہ ہوئی تھی، کئی ریاستوں سے گزرتے ہوئے ادھم پور،سرینگر،بارہمولہ ریل لنک کے ذریعے وادی پہنچی‘‘ ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سفر کے دوران جانوروں کی حفاظت اور فلاح کے لیے بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز کے سخت معیارات اور خصوصی چیمبرز استعمال کیے گئے۔
سینئر ڈویژنل کمرشل منیجر جموں اُچت سنگھل نے کہا کہ اس اقدام سے خطے کے ڈیری سیکٹر کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا’’ان اعلیٰ معیار کے غیر ملکی نسل کے بیلوں کی آمد سے کشمیر میں مقامی مویشی نسل بہتر ہوگی اور دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا‘‘۔
سنگھل نے مزید کہا’’ریل کے ذریعے ترسیل نے سڑک کے مقابلے میں اخراجات کم کیے اور خراب موسمی حالات کے باوجود محفوظ اور بروقت فراہمی کو یقینی بنایا‘‘۔
سنگھل نے کہا کہ یہ اقدام ڈیری کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گا اور خطے میں ڈیری سیکٹر کی ترقی کے ایک نئے مرحلے کی شروعات کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا’’یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ کشمیر اب قومی مال برداری نیٹ ورک سے مکمل طور پر جڑ چکا ہے، جس سے مستقبل میں مویشیوں اور زرعی مصنوعات کی تجارت بھی آسان ہوگی‘‘۔
ریلوے حکام نے اس پیش رفت کو مال برداری کے نظام کو مضبوط بنانے اور جموں و کشمیر میں زرعی و متعلقہ شعبوں کی معاونت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔










