سرینگر: پائین شہر کے گنجان آبادی والے علاقے سید پورہ نوہٹہ میں درمیانی شب پیش آنے والی ایک تباہ کن آتشزدگی نے پوری بستی کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا، جس میں ایک درجن کے قریب مکان مکمل طور پر خاکستر ہو گئے۔
گزشتہ۲۴گھنٹوں کے دوران شہر میں پیش آئے دو الگ الگ آگ کے واقعات میں مجموعی طور پر۲۲مکانات جل کر راکھ ہو گئے، جب کہ شہریوں نے فائر پوائنٹس میں پانی دستیاب نہ ہونے کو اس تباہی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔
علاقہ سید پورہ نوہٹہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ درمیانی شب اچانک ایک رہائشی مکان سے آگ بھڑکی، جو لمحوں میں گنجان بستی میں پھیل گئی۔
رہائشی غلام نبی شاہ نے بتایا’’ہم نے فائر پوائنٹ پر دوڑ لگائی، لیکن وہاں پانی موجود ہی نہیں تھا۔ اگر شروع میں ہی پانی مل جاتا تو آدھی بستی کو بچایا جا سکتا تھا۔‘‘
ایک اور مقامی شخص آفاق احمد نے کہا کہ ’آگ اس قدر شدید تھی کہ فائر ٹینڈروں کا پانی بھی چند منٹوں میں ختم ہو گیا۔ جب پانی ہی نہ ہو تو فائر مین کیا کر سکتے ہیں؟‘
مکینوں کے مطابق فائر اینڈ ایمرجنسی کے اہلکاروں نے بھرپور کوشش کی، لیکن پانی نہ ہونے کے باعث کارروائی شدید متاثر ہوئی۔
آگ اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ بعد میں جامع مسجد کے بڑے تالاب اور دریائے جہلم سے موٹر پمپ کے ذریعے پانی لایا گیا، جس کے بعد آگ پر قابو پایا گیا، تاہم تب تک کئی گھر پوری طرح جل چکے تھے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکار نے آگ بجھانے کے لیے متعدد فائر پوائنٹس تو قائم کیے، لیکن یہ پوائنٹس اکثر خشک رہتے ہیں اور عملی طور پر کسی کام کے نہیں۔ ایک بزرگ رہائشی عبدالرشید میر نے کہا کہ ’فائر پوائنٹ ہونا کافی نہیں، پانی ہونا ضروری ہے۔ جب پانی نہیں تو پوائنٹ پتھر کا ڈھانچہ ہی رہ جاتا ہے۔‘
دوسری جانب وادی کے معروف مذہبی رہنما میر واعظ کشمیر مولانا عمر فاروق نے شہر خاص میں بڑھتی آتشزدگی کی وارداتوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ انجمن اوقاف جامع مسجد نے کئی بار سرکار سے تحریری طور پر درخواست کی کہ جامع مسجد کے نزدیک فائر اسٹیشن قائم کیا جائے، تاکہ گنجان آبادی میں آگ لگنے کی صورت میں فوری کارروائی ممکن ہو سکے، لیکن حکومتی سطح پر اس مطالبے کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا۔
میر واعظ نے کہا کہ’کل رات سید پورہ میں آگ لگنے کے دوران فائر ٹینڈروں کا پانی ختم ہو گیا۔ اگر جامع مسجد کے تالاب میں پانی نہ ہوتا تو آج پوری بستی جل کر خاک ہو چکی ہوتی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے اہلکار اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیتے ہیں، لیکن جب بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو وہ بھی بے بس ہو جاتے ہیں۔ میر واعظ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فائر پوائنٹس کو نہ صرف فعال کیا جائے، بلکہ جامع مسجد کے نزدیک مستقل فائر اسٹیشن قائم کیا جائے تاکہ مستقبل میں بڑے حادثات سے بچا جا سکے۔
ادھر شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ آتشزدگی کا خطرہ رکھنے والے گنجان علاقوں میں فائر پوائنٹس اور فوری رسپانس یونٹ مضبوط کیے جائیں، تاکہ انسانی جانوں اور املاک کو بچایا جا سکے۔










