بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

قرض مانگنے مانگتے پر اب شرمندگی ہو رہی ہے‘ملک کی خودداری مجروح ہو رہی ہے

قرض لینا ملک کی عزتِ نفس پر ایک بھاری بوجھ بن چکا ہے‘ایسی باتیں ماننی پڑتی ہیں جن سے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی:شہباز شریف

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-01
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
قرض مانگنے مانگتے پر اب شرمندگی ہو رہی ہے‘ملک کی خودداری مجروح ہو رہی ہے
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

سرینگر: پاکستان کے وزیرِ اعظم‘شہباز شریف نے غیر ملکی قرضوں پر بڑھتے ہوئے انحصار پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی امداد کے لیے دنیا بھر میں ہاتھ پھیلانا قومی خودداری کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ قرض لینا ملک کی عزتِ نفس پر ایک بھاری بوجھ بن چکا ہے۔
اسلام آباد میں برآمد کنندگان اور صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم نے کہا کہ قرضوں کی وجہ سے پاکستان کو بہت سی ایسی باتیں ماننی پڑتی ہیں جن سے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
ان کا کہنا تھا’’جب فیلڈ مارشل عاصم منیر اور میں دنیا بھر میں پیسے مانگنے کے لیے پھرتے ہیں تو ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے۔ قرض لینا ہماری خودداری پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ ہمارے سر شرمندگی سے جھک جاتے ہیں، اور ہم بہت سی باتوں پر ‘نہیں’ نہیں کہہ سکتے‘‘۔
یہ بیان ایک مقامی نشریاتی ادارے کے حوالے سے سامنے آیا ہے، جو پاکستان کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اور بین الاقوامی مالی امداد پر انحصار کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان عالمی مالیاتی ادارے سے مزید مدد اور قرضوں کی ادائیگی میں نرمی کی کوششیں کر رہا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نے چین کو پاکستان کا ’’ہر موسم کا دوست‘‘ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے مشکل حالات میں پاکستان کی مالی مدد کی۔ ان ممالک کی جانب سے دی جانے والی رقوم اور سرمایہ کاری کو زرِ مبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے اور ادائیگیوں کے بحران سے بچاؤ کے لیے نہایت اہم قرار دیا جاتا ہے۔
چین نے اربوں ڈالر کی محفوظ رقوم کی مدت میں توسیع کی ہے تاکہ پاکستان اپنے قرضوں کی ادائیگی کر سکے، جبکہ۲۰۲۴۔۲۵کے دوران چار ارب ڈالر کی مزید سہولت متوقع ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں ساٹھ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔
سعودی عرب نے دسمبر۲۰۲۴میں اسٹیٹ بینک پاکستان کے پاس تین ارب ڈالر کی رقم جمع کرائی اور۲۰۲۵میں تقریباً ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگی پر تیل کی سہولت فراہم کی۔ ریاض نے معدنیات، زراعت اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات بھی ظاہر کیے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے۲۰۲۵کے آغاز میں دو ارب ڈالر کے قرض کی مدت بڑھائی اور توانائی، بندرگاہوں اور گندے پانی کی صفائی کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا۔ قطر نے بھی تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے معاہدہ کیا ہے، جس کا مرکز ہوابازی، زراعت اور سیاحت کے شعبے ہیں، جبکہ وہ توانائی کا ایک بڑا فراہم کنندہ بھی ہے۔
شہباز نے غربت اور بے روزگاری میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی اور تحقیق و اختراع کے شعبے میں ترقی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ پاکستان اس وقت شدید سماجی و معاشی بحران کا شکار ہے، جہاں مہنگائی، سیلاب اور معاشی بدانتظامی کے باعث غربت کی شرح تقریباً پینتالیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح سات اعشاریہ ایک فیصد ہے اور اسی لاکھ سے زائد افراد روزگار سے محروم ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ غیر رسمی شعبے میں جزوی بے روزگاری عام ہو چکی ہے۔ برآمدات اب بھی زیادہ تر ٹیکسٹائل اور خام اشیاء تک محدود ہیں، حالانکہ سافٹ ویئر، زراعت اور مویشی پروری میں امکانات موجود ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ مارچ۲۰۲۵تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض۷۶ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو محض چار برسوں میں تقریباً دوگنا ہو گیا ہے۔ ملک کا انحصار عالمی مالیاتی ادارے کے پیکیجوں اور چین سے حاصل قرضوں پر ہے تاکہ دیوالیہ ہونے سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق وزیرِ اعظم کا یہ اعتراف اس بات کی تصدیق ہے کہ پاکستان کا معاشی بحران محض وقتی نہیں بلکہ ایک مستقل ساختی کمزوری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ماضی میں غیر ملکی امداد کو ’’تزویراتی شراکت‘‘ یا ’’برادرانہ تعاون‘‘ کہا جاتا تھا، مگر اب جغرافیائی اہمیت کے بدلے مالی فائدہ حاصل کرنے کی وہ گنجائش بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ قرضوں کی بات چیت میں فوجی قیادت کی شمولیت اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ ریاستی استحکام کی واحد ضمانت فوج کو سمجھا جا رہا ہے، جس سے شہری حکمرانی کی سرحدیں مزید دھندلا رہی ہیں۔ دوسری جانب عوام مہنگائی، توانائی بحران اور بے روزگاری سے پریشان ہیں، جبکہ ریاستی وسائل تاثر سازی اور لابنگ پر خرچ کیے جا رہے ہیں، جو قومی ترجیحات پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

تمباکو مصنوعات پر اضافی ٹیکس اور اضافی محصول آج سے نافذ ہوں گے

Next Post

کٹرا میں دیویوں کے میوزیم پر کام جلد شروع ہوگا:سنہا

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج
اہم ترین

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

2026-07-21
جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری
اہم ترین

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

2026-07-21
 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب
اہم ترین

 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب

2026-07-21
جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی
اہم ترین

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

2026-07-21
 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر
اہم ترین

 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر

2026-07-21
 موجودہ شکل میں سندھ   طاس معاہدہ دوبارہ نافذ   نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع
اہم ترین

 موجودہ شکل میں سندھ  طاس معاہدہ دوبارہ نافذ  نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع

2026-07-21
چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا  نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے
اہم ترین

چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے

2026-07-21
سے ۵۱اگست تک جموں صوبے میں شدید بارشوں کا امکان خراب موسم کے باعث پونچھ میں دوسرے روز بھی اسکول بند رہے
اہم ترین

 شدید بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے خدشات کے باعث بجلی کے کھمبوں، تاروں اور  ٹرانسفارمروںسے دور رہنے کی اپیل 

2026-07-21
Next Post
کٹرا میں دیویوں کے میوزیم پر کام جلد شروع ہوگا:سنہا

کٹرا میں دیویوں کے میوزیم پر کام جلد شروع ہوگا:سنہا

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.