نئی دہلی: تمباکو مصنوعات پر بڑھائے گئے ٹیکس اتوار یکم فروری سے نافذ ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں سگریٹ، پان مسالہ وغیرہ مہنگے ہو جائیں گے۔
اشیاء اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل نے گزشتہ سال۳ستمبر کو زیادہ تر اشیاء پر نئی ٹیکس شرحوں کا اعلان کیا تھا۔ دیگر تمام مصنوعات پر نئی شرحیں۲۲ستمبر۲۰۲۵سے نافذ ہو چکی تھیں، تاہم تمباکو، پان مسالہ، سگریٹ، بیڑی وغیرہ پر یہ شرحیں یکم فروری۲۰۲۶سے لاگو ہوں گی۔ جی ایس ٹی میں ان مصنوعات پر موجود اضافی محصول اتوار سے صفر ہو جائے گا لیکن اس کی جگہ صحت کے لیے نقصان دہ ان مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے نئے اضافی محصول عائد کیے جائیں گے اور ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائے گا۔
بیڑی، سگریٹ اور حقہ میں استعمال ہونے والے تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی۶۴فیصد سے بڑھا کر۷۰فیصد کر دی جائے گی۔ اسی طرح تمباکو کے فضلے پر ڈیوٹی۵۰فیصد سے بڑھا کر۶۰فیصد کی جائے گی۔ سگار، چروٹ اور سگریلوج پر ایکسائز ڈیوٹی 12.5 فیصد یا فی ہزار۴۰۰۶ روپے سے بڑھا کر۲۵فیصد یا فی ہزار۵۰۰۰روپے کر دی جائے گی۔
بغیر فلٹر والے۶۵؍ایم ایم تک کے سگریٹ پر ڈیوٹی۲۰۰روپے فی ہزار سے بڑھا کر۲۷۰۰ روپے فی ہزار اور۶۵سے۷۰؍ایم ایم تک کے سگریٹ پر۲۵۰روپے فی ہزار سے بڑھا کر۴۵۰۰روپے فی ہزار کی جائے گی۔ فلٹر والے سگریٹ پر اس وقت لمبائی کے لحاظ سے۴۴۰روپے فی ہزار سے۷۳۵روپے فی ہزار تک ایکسائز ڈیوٹی عائد ہے، جسے بڑھا کر۳۰۰۰روپے سے۱۱۰۰۰روپے فی ہزار اسٹک کرنے کی تجویز ہے۔
تمباکو کے متبادل سے بننے والے سگریٹ، چروٹ وغیرہ پر بھی ڈیوٹی میں بھاری اضافے کی تجویز ہے۔ چبانے والے تمباکو اور زردہ پر ٹیکس کی شرح۲۵فیصد سے بڑھا کر۱۰۰فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دیگر مصنوعات پر بھی ڈیوٹی میں نمایاں اضافے کی شق بل میں شامل کی گئی ہیں۔
جی ایس ٹی میں بیڑی پر ٹیکس کی شرح۱۸ فیصد رکھی گئی ہے جبکہ پان مسالہ، تیار شدہ تمباکو، سگار، چروٹ، سگریلوج اور سگریٹ پر۴۰فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
صحت کے تحفظ سے متعلق نیشنل سکیورٹی ایکٹ بھی یکم فروری سے نافذ ہو جائے گا۔ اس کے تحت پان مسالہ فیکٹریوں پر خصوصی سیس عائد کیا جائے گا۔ یہ سیس پان مسالہ کی تیاری اور پیکجنگ مشینوں کی صلاحیت کی بنیاد پر لگایا جائے گا۔ جہاں ہاتھ سے پیکجنگ ہوتی ہے وہاں بھی مقررہ سیس عائد کیا جائے گا۔
اس سے متعلق بلوں کو پارلیمنٹ کے گزشتہ سرمائی اجلاس میں منظوری مل چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔










