نئی دہلی، 28 جنوری (یو این آئی)
سپریم کورٹ نے بدھ کے روز کہا کہ سورن ہندو شخص کا بدھ مت اختیار کرنے کے بعد اقلیتی کوٹے سے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کی کوشش کرنا ’ایک نئے قسم کا فراڈ‘ ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیا باگچی کی بنچ نکھل کمار پونیا نامی شخص کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ نکھل نے بدھ مت اختیار کرنے کے بعد خود کو اقلیتی کمیونٹی کا رکن ظاہر کرتے ہوئے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کورس میں داخلہ لینا چاہا تھا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عرضی گزار کی ذات کے بارے میں سوال کیا: ’’آپ پونیا ہیں؟ آپ کس اقلیتی کمیونٹی سے ہیں؟ میں سیدھا پوچھ رہا ہوں، آپ کون سے پونیا ہیں؟‘‘
عرضی دہندہ کے وکیل نے جواب دیا کہ عرضی دہندہ جاٹ پونیا کمیونٹی سے ہیں جو جنرل زمرے میں آتی ہے۔ جب بنچ نے پوچھا کہ عرضی دہندہ اقلیتی درجے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے تو وکیل نے کہا کہ عرضی دہندہ نے بدھ مت اختیار کر لیا ہے اور مذہب کی تبدیلی ایک ذاتی حق کا معاملہ ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے تبصرہ کیا ’’واہ! یہ ایک نئے قسم کا دھوکہ ہے۔‘‘
بنچ نے کہا کہ ایسے دعوے حقیقی اقلیتی امیدواروں کے حقوق چھیننے کی کوشش لگتے ہیں۔ چیف جسٹس کانت نے خبردار کیا کہ اگر ایسے دعوے قبول کیے گئے تو اعلیٰ ذات کے امیدوار سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ اقلیتوں کے لیے مختص کردہ داخلہ حاصل کرنے کے لیے یہی طریقہ اختیار کرنا شروع کر سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے عرضی خارج کرتے ہوئے ہریانہ کے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ اقلیتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے قواعد و ضوابط کو ریکارڈ پر رکھیں۔ بنچ نے خاص طور پر وضاحت طلب کی کہ کیا کوئی اعلیٰ ذات کا عام زمرے کا امیدوار بعد میں بدھ مت اختیار کر کے اقلیتی درجے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
حکم میں کہا گیا ’’ہر










