جموں: جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں منگل کے روز ایک سڑک حادثے میں سی آر پی ایف کے ایک جوان سمیت چار افراد ہلاک جبکہ ایک خاتون زخمی ہو گئی۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ایک بس نے سڑک کنارے کھڑے ایک لوڈ کیریئر اور ایک موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔
یہ حادثہ صبح تقریباً۱۱بجے جموں،سرینگر قومی شاہراہ پر جکھنی،چنینی کے قریب پیش آیا۔
حکام نے بتایا کہ ڈوڈہ سے جموں جا رہی بس بے قابو ہو گئی اور پہلے ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، اس کے بعد قریب ہی کھڑے ایک لوڈ کیریئر سے جا ٹکرائی، جس کی مرمت ایک مکینک کر رہا تھا۔
حادثے میں مکینک اور لوڈ کیریئر کا ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ بس میں سوار دو افراد ایمرجنسی کھڑکی سے باہر جا گرے اور اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت سنجیو کمار (ساکن ادھم پور، پیشہ مکینک)، رئیس احمد (ساکن بڈگام) اور مکیش پراجاپتی کے طور پر ہوئی ہے، جو سی آر پی ایف کے جوان تھے، کشتواڑ میں تعینات تھے اور چھٹی پر مدھیہ پردیش اپنے گھر جا رہے تھے۔
بس میں سفر کر رہی ایک اور مسافر، بیملا دیوی، حادثے میں زخمی ہو گئیں۔ انہیں سرکاری میڈیکل کالج اسپتال، ادھم پور میں داخل کرایا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
اپنے تعزیتی پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ادھم پور میں پیش آئے اس افسوسناک سڑک حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع سے مجھے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ اس غم کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت ہے۔ زخمی کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں انہیں صبر و حوصلہ عطا کرنے کی دعا کی۔
ادھر، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف مہم کے تحت جموں پولیس نے ایک اوورلوڈ منی بس کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جو تیز رفتاری اور لاپرواہی سے چلائی جا رہی تھی اور انسانی جانوں و عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی تھی۔
پولیس اسٹیشن جھجر کوٹلی کی جانب سے کی گئی کارروائی کے دوران منی بس کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق گاڑی ضرورت سے زیادہ بھری ہوئی تھی اور بے احتیاطی سے چلائی جا رہی تھی، جس سے مسافروں اور دیگر سڑک استعمال کرنے والوں کی جان کو خطرہ لاحق تھا۔










