سرینگر: حکام نے اتوار کو بتایا کہ وادی میں یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے پیش نظر سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں مرکزی سرکاری تقریب کے مقام بخشی اسٹیڈیم کے گرد تین سطحی سیکورٹی حصار قائم کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اسٹیڈیم کی جانب جانے والی تمام سڑکوں پر ناکے اور چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ پیر کو ہونے والی تقریبات کی ہموار انجام دہی کو یقینی بنانے کے لیے شہر بھر میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔
ہفتہ کے روز یومِ جمہوریہ کی فل ڈریس ریہرسل منعقد کی گئی، جس کی صدارت ڈویژنل کمشنر انشل گرگ نے کی۔
پولیس نے وادی میں گشت اور گاڑیوں کی چیکنگ میں بھی اضافہ کر دیا ہے تاکہ ملک دشمن عناصر کی جانب سے تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔
حکام نے کہا’’یومِ جمہوریہ کی تقریب کے پُرامن، محفوظ اور بلا کسی واقعے کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے پوری وادی میں سیکورٹی اور چیکنگ کے اقدامات سخت کر دیے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط سیکورٹی نظام کے تحت وادی کے مختلف اہم مقامات پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، بالخصوص سرینگر شہر میں۔
حکام کے مطابق’’خصوصی چیک پوائنٹس اور موبائل گشت قائم کیے گئے ہیں، جہاں گاڑیوں اور افراد کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔ بلند سطح کی چوکسی برقرار رکھنے اور امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے رات کے گشت اور اچانک معائنے بھی کیے جا رہے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے اور مشتبہ نقل و حرکت پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ضلع سطح پر سینئر پولیس افسران انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ سیکورٹی منصوبے پر مؤثر اور بغیر کسی رکاوٹ کے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا’’عوام سے گزارش ہے کہ چیکنگ اور تصدیقی عمل کے دوران پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا پولیس کنٹرول روم کو دیں۔‘‘
ادھرحکام نے اتوار کو بتایا کہ یومِ جمہوریہ کی تقریبات سے قبل جموں کا مولانا آزاد اسٹیڈیم، جہاں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ترنگا لہرائیں گے، کو سخت سیکورٹی حصار میں لے لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق۲۶جنوری کو۷۷ویں یومِ جمہوریہ کی مرکزی تقریب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی اس اہم مقام پر موجود ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اسٹیڈیم اور ضلع و تحصیل ہیڈکوارٹرز پر واقع دیگر مقامات، بشمول پہاڑی علاقوں، کے گرد کثیر سطحی سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق شہر کے وسط میں واقع اسٹیڈیم کے مرکزی دروازے پر ایک بکتر بند پولیس گاڑی تعینات کی گئی ہے، جبکہ بھیڑ کے نظم و نسق کے لیے رکاوٹیں بھی نصب کی گئی ہیں۔ دونوں گیٹس بند ہیں اور پولیس و نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری انہیں محفوظ بنائے ہوئے ہے۔
سیکورٹی فورسز نے لوگوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنے کے لیے تمام اسٹریٹجک مقامات اور قریبی عمارتوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔حکام نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ سے جموں خطے میں بڑے پیمانے پر انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران تین ہفتوں کے اندر چار مقابلے ہوئے تین ضلع کٹھوعہ میں اور ایک ضلع کشتواڑ میں۔ ان کارروائیوں میں۲۳ جنوری کو کٹھوعہ ضلع میں جیشِ محمد (جے ای ایم) سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد ہلاک کیا گیا۔
حکام کے مطابق۱۸جنوری کو کشتواڑ کے چترو فارسٹ بیلٹ میں ایک اور مقابلے کے دوران فوج کا ایک پیرا ٹروپر شہید ہوا، جبکہ سات دیگر فوجی زخمی ہوئے۔
اگرچہ حالیہ شدید برفباری نے بلند پہاڑی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو متاثر کیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز بدستور ہائی الرٹ پر ہیں اور یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سرحدوں اور اندرونی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ سیکورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جموں خطے میں ولیج ڈیفنس گارڈز (وی ڈی جیز) کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے اور علاقوں میں گشت میں اضافہ کیا گیا ہے۔










