سرینگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اتوار کو کہا کہ جموں و کشمیر میں ہونے والی برفباری عوام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف سیاحوں کی آمد شروع ہو گئی ہے بلکہ آبی سطح (واٹر ٹیبل) کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ وادی میں بروقت برفباری عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی، کیونکہ کم بارشیں پڑنے کی صورت میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔
وزیراعلیٰ نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں واقع اسکی ریزورٹ گلمرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’اس بار ہمیں چلہ کلاں کے دوران برفباری ہوئی ہے، جو ایک اچھی بات ہے۔ لوگ (سیاح) اب یہاں آنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ وہ برفباری کے منتظر تھے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اگر یہ برف نہ پڑتی تو ہمیں گرمیوں میں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا‘‘۔
اتوار کے روز سرینگر سمیت کشمیر کے کئی علاقوں میں تازہ برفباری ہوئی، جس کے باعث جموں،سرینگر قومی شاہراہ پر ٹریفک متاثر ہوئی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ برفباری کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہفتہ کو یہاں پہنچے تھے۔انہوں نے مختلف محکموں کی جانب سے بحالی کے کاموں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ان کاکہنا تھا’’بجلی (ترسیلی) نظام متاثر ہوا تھا۔۱۷۰۰میگاواٹ کی بلند ترین طلب کے مقابلے میں ہم۱۵۰۰میگاواٹ بجلی بحال کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں، جو برفباری سے شدید متاثر ہوئے ہیں، بجلی کی بحالی میں کچھ وقت لگے گا‘‘۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ گلمرگ میں اسکی ڈریگ لفٹ کو فعال بنانے سے متعلق مسائل حل کرنے آئے ہیں۔
عمرعبداللہ نےکہا’’میں توقع کر رہا تھا کہ ڈریگ لفٹ اب تک فعال ہو جائے گی، لیکن کچھ مسائل ہیں۔ میں نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ میری واپسی سے قبل لفٹ کو فعال بنایا جائے‘‘۔
بی جے پی کے رہنما ترون چھگ کی جانب سے جموں کی ریاستی حیثیت کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کو موردِ الزام ٹھہرانے سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر سے لداخ کی علیحدگی کی بھی مخالف ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’انہوں نے (بی جے پی) لداخ کو تباہ کر دیا ہے۔ ہم لداخ کی علیحدگی کے بھی خلاف تھے اور جموں کی علیحدگی کے بھی خلاف ہیں۔ میں بی جے پی کے کئی رہنماؤں اور کشمیر میں ان کے قریبی لوگوں کے نام لے سکتا ہوں جنہوں نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر الگ جموں ریاست کا مطالبہ بی جے پی کا موقف نہیں ہے تو’’یہ اچھی بات ہے‘‘۔
سول جج کے ابتدائی امتحانات کے نتائج سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مذہب اور خطے کی بنیاد پر سیاست بند ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا’’اگر امتحان میں کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو مجھے ثبوت دکھائیں، میں اس کی تحقیقات کراؤں گا۔ محض اس بنیاد پر کہ ایک خطے نے میرٹ کی بنیاد پر دوسرے خطے سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے، اسے مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ یہی ذہنیت ایس ایم وی ڈی آئی ایم ای میڈیکل کالج کی بندش کا سبب بنی تھی۔ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔‘‘
۔۔۔۔۔










