سرینگر: ممتاز کشمیری عالم، شاعر، ماہرِ لسانیات اور مترجم پروفیسر شفیع شوق کو اتوار کے روز تعلیم، زبان اور ادب کے شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پدم شری ایوارڈ۲۰۲۶ کے لیے منتخب کیا گیا۔ پدم شری بھارت کا چوتھا اعلیٰ ترین شہری اعزاز ہے۔
اس اعزاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر شوق نے کہا کہ ان کے لیے یہ انتہائی مسرت کا لمحہ ہے کہ ان کا نام ان شخصیات میں شامل ہوا جنہوں نے سماج میں حقیقی معنوں میں فرق پیدا کیا ہے۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا’’ماضی میں مجھے کئی اعزازات اور ایوارڈز ملے ہیں، لیکن پدم شری بہت کم لوگوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں امتیازی کارکردگی دکھائی ہو۔ ان میں شامل ہونا میرے لیے بے حد فخر کی بات ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ انہیں صبح سویرے فون کے ذریعے اس اعزاز کے بارے میں اطلاع دی گئی اور حکام ان کے ادبی کام اور کتابوں سے بخوبی واقف تھے۔’’میں نے کبھی ایوارڈ یا شہرت کے لیے نہیں لکھا۔ جو کچھ ملا، میں نے اسے قبول کر لیا‘‘۔
پروفیسر شوق انگریزی اور کشمیری زبان میں درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں شاعری، تاریخ، لغات اور قواعد پر مبنی تصانیف شامل ہیں۔ انہیں شاعری کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر بھی کئی اعزازات حاصل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا’’یہ اعزاز اس لیے بھی خاص ہے کہ اب میرا نام اختر محی الدین اور رحمان راہی جیسے عظیم ادبی شخصیات کے ساتھ جڑا ہے، جنہیں اس سے قبل پدم شری سے نوازا جا چکا ہے‘‘۔
سائنس اور انگریزی میں تعلیمی پس منظر رکھنے والے پروفیسر شوق نے اپنی زندگی کے پچاس برس سے زائد کشمیری زبان اور ادب کے لیے وقف کیے۔ انہوں نے کشمیر یونیورسٹی میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بطور پروفیسر خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے کشمیری ادب کی تدریس کی اور طلبہ و تحقیقاتی اسکالرز کی رہنمائی کی۔
پروفیسر شوق نے کہا’’اگر میرا کام طلبہ اور محققین کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے تو یہی میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے‘‘۔انہوں نے مقامی اور دیسی علم کو محفوظ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اکثر ملک اور بیرونِ ملک سے کشمیری زبان میں پودوں، پھولوں اور کیڑوں کے ناموں سے متعلق سوالات موصول ہوتے ہیں۔
ان کاکہنا تھا’’زبانیں اسی طرح کے علم سے تشکیل پاتی ہیں۔ شاعری اہم ہے، لیکن تحقیق اور معلومات پر مبنی تحریر بھی اتنی ہی ضروری ہے‘‘۔
شاعری سے اپنی محبت کا اعادہ کرتے ہوئے پروفیسر شوق نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ان کی توجہ جامع علمی کاموں پر مرکوز رہی ہے، جن میں کشمیری زبان کی تاریخ پر مبنی کتابیں بھی شامل ہیں۔’’لوگ ان کتابوں کو پڑھتے ہیں اور یہی بات مجھے خوشی دیتی ہے۔ میں شاعروں کو ترغیب دیتا ہوں کہ وہ وہی لکھیں جس کا انہیں علم ہو اور آئندہ نسلوں کے لیے کچھ بامعنی چھوڑ جائیں‘‘۔
نوجوان لکھنے والوں کے لیے پیغام دیتے ہوئے پروفیسر شوق نے انہیں محض شاعری تک محدود نہ رہنے بلکہ تحقیق پر مبنی تحریر کی جانب بھی متوجہ ہونے کی تلقین کی۔’’لکھنے والے اکثر شکایت کرتے ہیں کہ لوگ انہیں نہیں پڑھتے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ ایسا کچھ لکھ رہے ہیں جسے لوگ پڑھنے کی ضرورت محسوس کریں؟‘‘
پروفیسر شوق نے کہا، اور مصنفین کو نباتات، حیوانات، ماحولیات اور مقامی علم جیسے موضوعات پر لکھنے کی ترغیب دی۔










